01 March 2026

Balochistan Insight

Karim Baloch

428673_7119224_updates

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے تمام قبائل کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز کاساتھ دیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلیدہ میں خواتین کا قتل کیا گیا،میں اس کی مذمت کرتا ہوں، تمام قبائل کو چاہیے کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز کاساتھ دیں۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ترقی امن سے آتی ہے، اللہ کا شکر ہے بیکڑ میں بہت امن ہے، بیکڑ میں ڈیرہ بگٹی کے لوگوں اور قبائل نے امن قائم کیا ہے، میں بلوچستان کےلوگوں سے اکثرکہتا ہوں کہ آپ اپنے علاقوں میں امن قائم کرسکتے ہیں۔

Screenshot 2026-02-26 141626

معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کی مد میں وفاق کو 119 ارب روپے ملتا ہے اور اتنی ہی رقم صوبے کو بھی ملتی ہے، جبکہ معدنیات پر کام کرنے والی کمپنیاں صوبائی حکومت کو علاقے کی فلاح و بہبود کی مد میں 12 ارب الگ سے رقم دیتی ہیں۔
جن سرداروں یا پھر قوم پرست بلوچ رہنماؤں کی زمینوں سے معدنیات نکلتی ہے وہ 23ارب روپے رائیلٹی کی مد میں الگ سے وصول کرتے ہیں،سوال ہونا چاہیے کہ اختر مینگل جیسے بلوچ سردار وہ رقم کہاں خرچ کرتے ہیں ؟
جس علاقے سے معدنیات نکل رہی ہوتی ہیں ، وہاں کے مقامی افراد کو تعلیم، علاج اور بجلی مفت ملتی ہے

fire2

بلوچ عوام میں بی ایل اے کا ڈر ختم ہورہا ہے،ڈر کے کھیل میں بی ایل اے جس کو چاہتی تھی اپنے لئے استعمال کرتی تھی۔

بلیدہ میں ایک بلوچ خاندان نے بی ایل اے کے انٹیلی جنس یونٹ کے لئے کام کرنے سے انکار کیا،سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت سمیت دیگر خفیہ معلومات اکھٹی کرنے سے انکار کیا۔ اُس خاندان پر شدید دباؤ ڈالا جاتا رہا،وہ مسلسل انکار کرتے رہے،حالیہ ناکام حملوں کے بعد تو ویسے بھی بلوچ عوام بی ایل اے کے لئے شدید نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔

ڈر قائم کرنے کےلئے بی ایل اے نے مقامی بلوچ خاندان پر حملہ کیا،مارٹر گولوں سے ان کا گھر جلادیا،گھر کی 3 خواتین اور 3 مردوں کو شہید کردیا،3 بچے زخمی کردیے۔ اس دوران ایک حملہ آور مقامی افراد کے ہتھے چڑھ گیا،جسے لوگوں نے جلاکر راکھ کردیا اور بی ایل اے کو پیغام دیا کہ ان کے ظلم و ستم کے سامنے جھکیں گے نہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بی ایل اے پہلے مقامی بلوچ افراد کو ڈرا دھمکا کر یا لالچ دیکر مخبری کرالیتی تھی،اب اب نہ صرف بلوچ عوام ان کو انکار کرتے ہیں بلکہ سیکیورٹی فورسز کو بھی آگاہ کرتے ہیں۔

HBtDdoNbgAAiXcP

ذرائع کے مطابق بی ایل اے نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر مسلح اہلکاروں کو اغواء کیا،مقصد حالیہ ناکام حملوں کی خفت مٹانا تھا۔

جس دن یہ واقعہ پیش آیا اُسی دن سے سیکیورٹی فورسز نے بازیابی کے لئے آپریشن لانچ کردیا تھا۔ چونکہ ایسے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن انتہائی حساس ہوتے ہیں اس لئے ان کی تفصیلات عوامی سطح پر نہیں لائی جاتی،البتہ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ضروری تفصیلات جاری کی جاتی ہیں۔

اس وقت سیکیورٹی فورسز اپنے جوانوں کو بازیاب کرانے کے لئے بڑے پیمانے پر آپریشن کررہی ہے۔

l_418607_081437_updates

پشین میں قائم سرانان اور سرخاب روڈ مہاجر کیمپوں میں مجموعی طور پر 57 ہزار سے زائد غیر قانونی افغانی مقیم تھے۔جنہیں مکمل طور پر بے دخل کرکے دونوں کیمپ خالی کرالیے گئے ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے آپریشن کے بعد 10 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان مہاجر باقی رہ گئے تھےجنہیں 2 فروری تک دوبارہ آپریشن کرکے واپس بھیج دیا گیا ہے۔

دونوں کیمپ مکمل طور پر خالی کراکر مسمار کردیے گئے ہیں،مساجد اور واٹر سپلائی کو مسمار نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان میں بی ایل اے کی دہشتگرد کارروائیوں میں غیر قانونی افغان بھی سہولت کاری کرتے پائے جاتے رہے ہیں۔

190312ff-1cc2-4eb4-adbc-74b4f87a91a9.jpg

پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں کے واقعات اور آج ماہِ رمضان کے دوران بنوں میں پیش آنے والا حملہ شامل ہے، کے بعد پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں خوارج نے اپنے افغانستان میں موجود قیادت اور ہینڈلرز کے کہنے پر کیں۔

ان حملوں کی ذمہ داری بھی افغانستان میں موجودٹی ٹی پی اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ دولتِ اسلامیہ خراسان

صوبہ نے قبول کی ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان نے جوابی کارروائی کے طور پر انٹیلی جنس بنیادوں پر درستگی اور احتیاط کے ساتھ پاکستان افغانستان سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج سے وابستہ پاکستانی طالبان، ان کے اتحادیوں اور دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج و دیگر دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، کیونکہ پاکستانی عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے۔ پاکستان عالمی برادری سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری پر آمادہ کرے تاکہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ یہ اقدام علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

WhatsApp Image 2026-02-20 at 11.49.09 AM

بی ایل اے کو بلوچ عوام پر حالیہ منظم حملے بہت مہنگے پڑے ہیں،ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس کی نہ صرف مذمت کررہے ہیں بلکہ بی ایل اے کے خلاف کھل کر بات کرنا شروع ہوگئے ہیں۔

عمائدین کا کہنا ہے کہ جو اس سے قبل کہیں کوئی ڈر پایا جاتا تھا وہ بھی ختم ہوچکا ہے اور بی ایل اے سمیت جتنے بھی دہشتگرد گروہ ہیں جو بلوچ حقوق کے نام پر اپنے ایجنڈے کو پورا کرتے تھے ان کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوچکی ہیں۔ بلوچستان میں علماءکرام کا ایک سمینار ہوا،جس میں صوبے بھر سے جید علماء نے شرکت کی،انہوں نے دہشتگرد گروہوں کی عوامی اور سرکاری املاک کو تباہ کرنے،عوام اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی مذمت کی۔

مشترکہ بیان میں دہشت گردی اور مسلح تشدد کی مذمت کی گئی اور واضح کیا گیا کہ کسی بھی گروہ کو جہاد کا اعلان کرنے یا اسلام کے نام پر خونریزی کا جواز بنانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ علما نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بلوچستان میں جاری تشدد اور بے گناہ افراد کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلام انسانی جان کی مکمل حرمت قائم کرتا ہے۔

بے گناہ شہریوں، سرکاری ملازمین، مسافروں یا سیکیورٹی اہلکاروں کا قتل سخت حرام ہے اور اسے فساد فی الارض یعنی زمین میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کے مترادف قرار دیا گیا۔ علما نے کہا کہ ان اعمال کی کوئی دینی بنیاد نہیں، چاہے ان کے پیچھے سیاسی یا لسانی دلائل ہی کیوں نہ دیے جائیں۔ علما نے بلوچستان میں بیرونی مداخلت کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے بلوچستان میں استحکام کی بحالی کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ صوبے کے علما اور مشائخ پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔

HBXgeqZXAAAb7Ao

عسکری محاذ کے بعد پاکستان نے معاشی محاذ پر بھی بی ایل اے کی کمر توڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پاک ایران بارڈر کے استعمال سے بی ایل اے سمیت دیگر جتنے بھی مسلح گروہ غیر قانونی دھندہ کرکے مالی سپورٹ حاصل کرتے تھے وہ اب نہیں کرسکیں گے۔ کیوں کہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ 2 ماہ کے اندر ایران بارڈر پر بھی راہداری سسٹم کو ون ڈاکومنٹ رجیم پر منتقل کر دیا جائے گا اور آمد و رفت پاسپورٹ کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔

اب اسمگلنگ، پوست کی کاشت اور غیر قانونی تجارت کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ حکومت نے سرحدی علاقوں میں غیر قانونی نقل و حرکت اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ ایران بارڈر پر ون ڈاکومنٹ رجیم کے نفاذ کے بعد تمام آمد و رفت باقاعدہ دستاویزی نظام کے تحت ہوگی اور پاسپورٹ لازمی قرار دیا جائے گا۔

سرحدی علاقوں میں نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنایا جائے گا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ کسی بھی غیر

قانونی سرگرمی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کریں۔ اس سے قبل ایران سرحد پر بارٹر سسٹم اور مخصوص پاس سسٹم چلتا تھا،جس کا دہشتگرد گروہ غلط استعمال کرتے تھے۔ اب باقاعدہ راہداری سسٹم کو ون ڈاکومینٹ رجیم پر منتقل کرنے سے اسمگلرز کا دھندہ بند ہوجائے گا،یہ دھندہ بند ہونے سے بی ایل اے کی فنڈنگ کو دھچکا لگے گا۔

Screenshot 2026-02-19 131641

حکومت بلوچستان نے زراعت کے فروغ کے لئے گرین پاکستان انیشیٹو فیز ٹو کے تحت بلوچستان کے 847 کسانوں کو 3.2 ارب روپے کے بلاسود قرضے تقسیم کئے ہیں جس کے نتیجے میں 35609 ایکڑ رقبے پر کاشت کی جا سکے گی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مطابق،اس پراجیکٹ کے فیز 1 کے تحت 257 کسانوں کو 685 ملین کا بلا سود قرضہ پہلے فراہم کیا جا چکا ہے۔ حکومت بلوچستان ایک طرف کسان کارڈ کے زریعے سے بلوچستان کے غریب کسان کی مدد کر رہی ہے اور دوسری طرف گرین پاکستان انیشیٹیو کے زریعے سے بلاسود قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

Screenshot 2026-02-19 044023

سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں دو مختلف کارروائیاں،بی ایل اے کے مجموعی طور پر 14 کارندے ہلاک۔

بی ایل اے کے گرفتار کارندوں کی مخبری پر سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ کے علاقہ درخشاں اور بارکھان میں الگ الگ کارروائیاں کیں۔ درخشاں میں خفیہ اطلاع پر دہشتگردوں کی پناہ گاہ پر چھاپہ مارا گیا اور 8 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا۔ بارکھان میں دہشتگردی جنوری میں ناکام حملوں کے بعد فرار ہوکر چھپے ہوئے تھے،تلاش کرکے 6 دہشتگرد کو ہلاک کردیا گیا۔ اس دوران سی سی ڈی کے 3 اہلکار بھی زخمی ہوئے،دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ باردود برآمد ہوا۔ اس کے علاوہ جو سب سے اہم ثبوت ہاتھ لگے ہیں،وہ یہ ہیں کہ چھپے ہوئے دہشتگرد تاحال کسی حملے کی پلاننگ کررہے تھے،کیوں کہ ان کے پاس اسلحہ بارود موجود تھا۔ بشیر زیب سمیت بی ایل اے کی قیادت کیساتھ رابطے میں تھے،انکے انہی مواصلاتی رابطوں کو انٹرسیپٹ کیا گیا۔ اس دوران کچھ اہم پلاننگ بھی اداروں کے ہاتھ لگے ہیں،بتایا جارہا ہے کہ بشیر زیب کے کچھ ٹھکانوں کا بھی علم ہوا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بشیر زیب اب اپنے ٹھکانے بدلتا پھر رہا ہے کیوں کہ اس کی آئندہ چند ماہ کی پلاننگ اداروں کے ہاتھ لگ چکی ہے۔