پاکستان نے ایران کے راستے وسطی ایشیا تک ایک نئی تجارتی راہداری کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت پہلی کھیپ پیر کے روز گوادر بندرگاہ سے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند کے لیے روانہ کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق اس کھیپ میں منجمد گوشت شامل ہے، جو اس نئے روٹ کے تحت بھیجا گیا۔ یہ پیش رفت پاکستان کی علاقائی تجارت کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
یہ تجارتی راہداری گوادر بندرگاہ سے شروع ہو کر پاک ایران سرحد پر گبد۔ریمدان کراسنگ کے ذریعے ایران میں داخل ہوتی ہے، جہاں سے یہ راستہ وسطی ایشیائی ممالک تک جاتا ہے۔
حکام کے مطابق یہ نظام اقوام متحدہ کے ٹی آئی آر ٹرانزٹ فریم ورک کے تحت چلایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے سیل شدہ گاڑیاں کم سے کم چیکنگ کے ساتھ متعدد سرحدیں عبور کر سکتی ہیں، جس سے وقت اور لاگت میں نمایاں کمی آتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے روٹ سے نہ صرف ٹرانزٹ ٹائم کم ہوگا بلکہ لاجسٹکس اخراجات بھی کم ہوں گے، جبکہ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان براہ راست تجارتی رابطہ بھی قائم ہوگا۔
اس کے علاوہ کراچی اور گوادر بندرگاہوں پر کارگو کی آمد و رفت میں اضافہ متوقع ہے، جس سے پاکستان کی بندرگاہی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
یہ راہداری افغانستان کے راستے کے متبادل کے طور پر بھی سامنے آئی ہے، کیونکہ اکتوبر 2025 میں سرحدی کشیدگی کے بعد طورخم اور چمن بارڈرز بند ہونے سے وسطی ایشیا تک زمینی رسائی متاثر ہوئی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس راہداری کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، جس سے اس منصوبے کی جغرافیائی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے بھی منسلک ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں اسے وسطی ایشیائی منڈیوں تک وسعت دی جائے گی، جس سے علاقائی تجارت میں مزید اضافہ ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے بلوچستان میں روزگار اور ترقی کے مواقع بڑھیں گے،تاہم اس دوران بی ایل اے جیسے گروہ اپنی سرگرمیاں تیز کریں گے تاکہ اس کو سبوتاژ کیا جاسکے
گزشتہ دنوں جیوانی میں کوسٹ گارڈ کے تین جوانوں کو بی ایل اے کے دہشتگردوں نے اسی مقصد کے تحت شہید کیا تھا تاکہ بلوچستان کے عوام کے لئے روزگار کے مواقع پیدا نہ ہوسکیں