15 October 2026

Balochistan Insight

WhatsApp Image 2026-10-15 at 5.06.22 PM

 

کوئٹہ: بلوچستان میں سی پیک کے مغربی روٹ پر 310 ارب روپے مالیت کے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کے تحت مجموعی طور پر 718 کلومیٹر طویل شاہراہوں کی تعمیر اور بہتری کے منصوبوں پر پیش رفت ہو رہی ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مغربی روٹ کے شاہراہ منصوبوں کے لیے اب تک 163 ارب 17 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔

خضدار سے کچلاک تک 330 کلومیٹر طویل شاہراہ کے منصوبے کے لیے 82 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ہوشاب، آواران، نال، بسیمہ، خضدار اور ژوب کچلاک روٹس کے لیے مختص 83 ارب 20 کروڑ روپے میں سے 54 ارب 90 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جو مختص رقم کا تقریباً 66 فیصد بنتا ہے۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق بسیمہ خضدار شاہراہ کے لیے مختص فنڈز کا 94 فیصد حصہ ترقیاتی کاموں پر خرچ ہو چکا ہے، جو اس اہم شاہراہ پر مالی پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سی پیک کے مغربی روٹ کی تکمیل سے بلوچستان کے دور دراز اضلاع کے درمیان سفری رابطے بہتر ہوں گے، مال برداری میں آسانی پیدا ہوگی اور مقامی تجارت، زراعت، معدنیات اور سرمایہ کاری کے شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔

جدید شاہراہوں کا یہ نیٹ ورک بلوچستان کو ملک کے دیگر تجارتی مراکز سے منسلک کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور مقامی آبادی کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

6545

کوئٹہ میں سکیورٹی کا نظام بدلنے جا رہا ہے۔ شہر کی نگرانی کے لیے 2 ہزار 900 جدید کیمرے نصب ہوں گے، کوئیک رسپانس فورس کے نئے اسٹیشن بنیں گے، جبکہ پولیس کے اندر بھی بڑے پیمانے پر صفائی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سکیورٹی اور پولیسنگ سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
سب سے بڑی پیش رفت “کوئٹہ انٹیگریٹڈ سکیورٹی پروجیکٹ” ہے۔ اس منصوبے کے تحت کوئٹہ گرین ڈیجیٹل کوریڈور بنایا جائے گا اور شہر کے مختلف علاقوں میں 2 ہزار 900 جدید سکیورٹی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔
اس کا مقصد صرف سڑکوں کی نگرانی نہیں، بلکہ مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی، جرائم کے بعد ملزمان کی نقل و حرکت کا سراغ لگانا اور پولیس کے رسپانس ٹائم کو بہتر بنانا ہے۔
اس منصوبے کا دوسرا اہم حصہ کوئیک رسپانس فورس ہے۔ کوئٹہ میں QRF کے نئے اسٹیشن قائم کیے جائیں گے تاکہ کسی دہشت گرد حملے یا سنگین سکیورٹی صورتحال میں پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچ سکے۔
بلوچستان پولیس کے اندر محکمانہ احتساب بھی کیا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد کے مطابق غیر حاضری اور غفلت کے الزامات پر 871 پولیس اہلکاروں کو برطرف کیا جا چکا ہے۔
ایک اور بڑا فیصلہ وی آئی پی اور اہم شخصیات کے ساتھ تعینات پولیس اہلکاروں سے متعلق ہے۔ مختلف شخصیات کے ساتھ ڈیوٹی کرنے والے ایک ہزار 5 پولیس اہلکاروں کو واپس محکمہ پولیس کے سپرد کردیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے پولیس کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جدید تربیت اور ضروری وسائل فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پولیس کو شدت پسندی کے خلاف میدان میں اتارا گیا ہے تو حکومت اسے مکمل وسائل اور سرپرستی بھی فراہم کرے گی۔

54

جھل مگسی میں بی ایل اے کے مسلحہ حملہ آوروں نے عوام پر حملہ کیا جسے مگسی قبیلے کی امن فورس نے ناکام بنادیا۔

رپورٹس کے مطابق 22 سے 25 بی ایل اے کارندوں نے پہاڑی علاقے کی جانب سے ڈیم روٹ پر مگسی قبائل کی نئی قائم کردہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا، جس پر وہاں موجود قبائلی افراد نے جوابی فائرنگ کی۔

اطلاع ملنے پر نوابزادہ جعفر خان مگسی 100 سے زائد مسلح قبائلی افراد کے ہمراہ 10 سے 12 گاڑیوں میں چیک پوسٹ پر کمک کے لیے پہنچے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق بی ایل اے کا ٹارگٹ مگسی قبائل کے غیر مسلح عوام تھے،گھر تھے جسے مگسی امن فورس کی چیک پوسٹ نے ناکام بنادیا

فائرنگ کے تبادلے کے بعد حملہ آور قریبی پہاڑوں کی جانب فرار ہوگئے،واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

Screenshot 2026-09-28 151341

کیچ (ویب ڈیسک) ضلع کیچ کی تحصیل بلیدہ کے علاقے الندور میں ایک گھر پر بی ایل اے نے مسلح حملہ کیا ہے،جس کے نتیجے میں خاتون سمیت دو افراد جاں بحق جبکہ دو زخمی ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے رحمت ولد رفیق کے گھر کو مبینہ طور پر راکٹ لانچر سے نشانہ بنایا، جس کے بعد فائرنگ بھی کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق حملے میں سردار یحییٰ ولد حاجی حسن، سکنہ پروم پنجگور اور عائشہ بنت لعل محمد جاں بحق ہوگئے، جبکہ شہیک ولد نور اللہ اور شہاب ولد صغیر، سکنہ الندور زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے منتقل کردیا گیا ہے۔

Sardar Attaullah Mengal, Attaullah Mengal Balochistan

کوئٹہ: بلوچستان کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو سابق وزیراعلیٰ اختر مینگل کے والد اور صوبے کے پہلے منتخب وزیراعلیٰ سردار عطااللہ مینگل کا دورِ اقتدار اپنی سخت گیر پالیسیوں اور دور رس انتظامی اثرات کے باعث انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی پہلی منتخب اسمبلی سے منظور شدہ 1973ء کے آئین پر جہاں نواب خیر بخش مری اور علی احمد تالپور کے علاوہ تمام فریقین نے دستخط کیے، وہاں سردار عطااللہ مینگل کا پہلے ہی دن سے یہ سخت مؤقف تھا کہ وفاق کے ماتحت پنجابی نوکر شاہی (بیوروکریسی) اور نیم فوجی دستوں کی موجودگی میں بلوچستان حقیقی سیاسی و معاشی خودمختاری حاصل نہیں کر سکتا۔

زمینی حقائق اور تاریخی دستاویزات بتاتی ہیں کہ سردار عطااللہ مینگل، گورنر غوث بخش بزنجو جیسے جہاندیدہ اور معتدل سیاست دان کے برعکس، حکومت کو ایک جمہوری طرز کے بجائے اپنے روایتی سرداری پس منظر کے تحت چلانے کے خواہاں تھے۔ اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے یک جنبشِ قلم سیکڑوں پنجابی بیوروکریٹس اور پولیس افسران کو صوبہ بدر (Repatriate) کرنے کا حکم دیا۔ اس اچانک فیصلے نے بلوچستان کو ایک ایسے سنگین تعلیمی اور انتظامی بحران میں دھکیل دیا، جس کا خمیازہ یہ صوبہ پانچ دہائیاں گزرنے کے بعد آج بھی بھگت رہا ہے۔

عام طور پر قوم پرست حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ اقدامات لسبیلہ کے مسلح تصادم کے بعد کیے گئے، جبکہ تاریخی تناظر میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوتا ہے۔ لسبیلہ کا واقعہ اس انتظامی اتھل پتھل کے کئی ماہ بعد، دسمبر 1972ء اور جنوری 1973ء میں پیش آیا تھا۔ مینگل وزارت نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بلوچستان ریزرو پولیس کے 60 فیصد غیر بلوچ افسران کو ہٹایا اور متوازی طور پر ‘بلوچستان دہی محافظ فورس’ قائم کی، جس میں وفاقی وائٹ پیپر کے مطابق 1,100 سے زائد افراد بھرتی کیے گئے۔

یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کی ایک تحقیقی رپورٹ، جو نومبر 1972ء کے معاصر جریدے ‘آؤٹ لک’ (Outlook) کے ڈیٹا پر مبنی ہے، انکشاف کرتی ہے کہ مینگل انتظامیہ نے مجموعی طور پر تقریباً 5,500 سرکاری ملازمین کو واپس بھیجا، جن میں اکثریت پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔ ان میں سے 2,880 (تقریباً 52 فیصد) صرف پولیس اہلکار تھے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب خود مینگل حکومت کے اعتراف کے مطابق صوبے کے 12,000 سرکاری ملازمین میں سے صرف 25 فیصد (3,000) بلوچ تھے۔ اس بڑے پیمانے پر بیدخلی کی تصدیق خود گورنر غوث بخش بزنجو کے ستمبر 1972ء کے اس سرکاری بیان سے بھی ہوتی ہے، جس کا ذکر راؤٹلیج (Routledge) سے شائع ہونے والی محقق فرحان حنیف صدیقی کی کتاب میں موجود ہے کہ مالی سال کے اختتام تک 5,500 سے زائد ملازمین کو ان کے آبائی صوبوں میں واپس بھیجا جائے گا۔

اس پورے دور کے حوالے سے ہمارے قوم پرست دوستوں کا یہ دعویٰ کہ “اس عرصے میں بلوچستان میں ایک بھی جرم ریکارڈ نہیں ہوا”، دستاویزی طور پر سب سے کمزور اور حقیقت سے دور دکھائی دیتا ہے۔ کسی بھی سرکاری کرائم رپورٹ یا پولیس کے سالانہ ریکارڈ میں اس دور میں “صفر جرائم” کا کوئی وجود نہیں ملتا۔ اس کے برعکس، 5 دسمبر 1972ء کے روزنامہ ‘ڈان’ (Dawn) کا اداریہ اس پروپیگنڈے کی نفی کرتا ہے، جس میں پٹ فیڈر (Pat Feeder) کے دیہاتوں پر مسلح چھاپوں، مال مویشی لوٹنے، زمینوں پر قبضے اور کوئٹہ میں مسلح بگٹی قبائلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی امن و امان کی سنگین صورتحال کا واضح ریکارڈ موجود ہے۔

Screenshot 2026-09-24 193957

تربت میں بلوچ شناخت کے دشمنوں کی فائرنگ، سندھ سے تعلق رکھنے والے دو مزدور جاں بحق

ضلع کیچ کے علاقے کلاتک میں مسلح افراد کی فائرنگ سے سندھ سے تعلق رکھنے والے دو مزدور جاں بحق ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق فائرنگ کا واقعہ کلاتک میں آر ایچ سی اسپتال کے قریب پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے دو مزدوروں کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں دونوں مزدور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

جاں بحق ہونے والے دونوں افراد کا تعلق سندھ سے تھا اور وہ روزگار کے سلسلے میں علاقے میں موجود تھے۔

بلوچستان میں اس سے قبل بھی دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ایسے واقعات کا واحد مقصد بلوچ قوم کو دہشتگرد اور دیگر صوبوں کا دشمن بناکر پیش کرنا ہے،ایسے دہشتگرد عناصر کا واحد مقصد بلوچ شناخت کو داغدار کرنا ہے،اسے پرتشدد اور دہشتگرد قوم بناکر پیش کرنا ہے۔

Screenshot 2026-09-22 195019

بلوچستان حکومت نے قلات کے بعض علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف ممکنہ آپریشن کے باعث علاقہ مکینوں کو 28 ستمبر تک انخلاء کا نوٹس جاری کیا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر قلات کے آفس سے جاری ہونے والے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر پارود، شور اور گزگ کے علاقوں میں مقیم افراد 28 ستمبر 2026 تک عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

اسسٹنٹ کمشنر قلات اور خالق آباد کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عوام الناس کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر مذکورہ علاقوں کے مکین مقررہ تاریخ تک انخلا مکمل کریں۔

نوٹس میں تمام متعلقہ افراد سے ضلعی انتظامیہ کے احکامات پر عملدرآمد کرنے اور اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کی اپیل کی گئی ہے۔ متعلقہ انتظامی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی نوٹس سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔نقل مکانی کرنے والے افراد کے لئے حکومت کی جانب سے عارضی متبادل رہن سہن کا بندوبست کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق جہاں ممکنہ آپریشن کیا جاسکتا ہے وہ علاقے پہاڑی سلسلے کے ساتھ ساتھ متصل ہیں اور ان علاقوں سے متعلق رپورٹ ہے کہ مسلح حملہ آور ان علاقوں میں موجود آبادی میں رہ کر سکیورٹی فورسز، پبلک ٹرانسپورٹ اور بلوچ املاک پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اسمبلی میں یہ بات کرچکے ہیں کہ
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اسمبلی اجلاس کے دوران کہا تھا کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر سکیورٹی فورسز، پبلک اور تجارتی ٹرانسپورٹ پر مسلسل حملوں کے بعد حکومت بلوچستان نے حملہ آوروں کے خلاف بھرپور آپریشن کا فیصلہ کیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ شور، پارود اور کچھ دیگر ایسے علاقے ہیں جہاں 1970 سے علیحدگی پسند موجود ہیں۔

Screenshot 2026-09-22 143130

نوشکی کے علاقے کلی جمال آباد میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور شہید اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلوچستان میں بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے انسداد پولیو مہم جاری ہے۔

بلوچستان پہلے ہی پولیو کے خلاف جنگ میں سنگین چیلنجز کا سامنا کرچکا ہے۔ پولیو ٹیموں اور ان کی سکیورٹی پر حملوں کے باعث دور دراز علاقوں میں ویکسینیشن مہم چلانا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔ پاکستان انسداد پولیو پروگرام بھی ماضی میں ایسے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کرچکا ہے کہ مہم کا مقصد بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنا ہے۔

مقامی عمائدین کی جانب سے اس نوعیت کے حملوں پر سخت ردعمل سامنے آنا اس بنیادی سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ جو عناصر بلوچ بچوں تک صحت کی بنیادی سہولت پہنچانے والے عملے اور ان کے محافظوں کو نشانہ بنائیں، کیا انہیں بلوچ عوام کا ہمدرد کہا جاسکتا ہے؟عمائدین نے ایسے عناصر کو بلوچ شناخت کا دشمن قرار دیا ہے

Screenshot 2026-09-22 130216

بلوچ شناخت کے دشمن بی ایل اے کے دہشت گردوں نے مند میں ایران سرحد کے قریب تجارتی ٹرمینل، ایل پی جی ٹرکوں اور دیگر مال بردار گاڑیوں کو چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔

سیکیورٹی فورسز کی فوری جوابی کارروائی کے بعد 10 سے 13 دہشت گرد فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔ کارروائی کے نتیجے میں تجارتی ٹرمینل، ایل پی جی ٹرک اور دیگر مال بردار گاڑیاں محفوظ رہیں اور شہری املاک کو نقصان سے بچا لیا گیا۔

حملے کے دوران کسٹمز کا ایک اہلکار زخمی ہوا، جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

ttp bla

بلوچستان انسائیٹ کے ذرائع کے مطابق ، افغانستان میں موجود   بی ایل اے ، ٹی ٹی پی  اور القاعدہ  کے درمیان بلوچستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے تعاون بڑھا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس  تعاون میں افرادی قوت، مالی وسائل، اسلحہ، تربیت اور لاجسٹک معاونت شامل ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے درمیان روابط 2025 کے دوران نمایاں ہونا شروع ہوئے، جبکہ افغان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس، جی ڈی آئی، نے مختلف تنظیموں کے درمیان رابطوں میں کردار ادا کیا،اور ان روابط میں بھارتی خفیہ ایجنسی راء کا بھی ہاتھ ہے۔

مئی 2026 میں قندھار کے گورنر ملا شیرین کی ایک ملاقات میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ  سے  بی ایل اے کی معاونت کا کہا گیا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ جولائی 2026 میں مزید تین ملاقاتیں ہوئیں، جن میں بلوچستان میں کارروائیوں کے لیے مالی اور عملی تعاون پر بات ہوئی۔

ذرائع کے مطابق ایک ملاقات میں بی ایل اے کی جانب سے جماعت الاحرار کو مبینہ طور پر 35 لاکھ افغانی فراہم کیے گئے۔ ایک دوسری ملاقات میں بھارتی خفیہ ادارے را کی جانب سے دہشت گرد کارروائیوں کے لیے 78 لاکھ ڈالر سے زائد کی مالی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

26 اگست 2026 کو قندھار میں ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں  بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک افراد شریک ہوئے۔ اجلاس میں بی ایل اے کو افرادی قوت، اسلحہ اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنے پر اتفاق  ہوا۔

ذرائع کے مطابق ،یکم ستمبر کو افغان طالبان کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بی ایل اے کی معاونت سے متعلق خصوصی ہدایات جاری کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق سامنے آنے والی ایک دستاویز میں جنوب مغربی زون کے اسلحہ ڈپو سے رائفلیں، راکٹ پروپیلڈ گرینیڈ اور گولہ بارود فراہم کرنے کی ہدایات موجود ہیں۔

26 اگست کے اجلاس میں بلوچستان میں ہونے والی کارروائیوں کے لیے ایک مشترکہ میڈیا حکمت عملی پر بھی بات ہوئی، جبکہ ٹی ٹی پی اور القاعدہ  کی جانب سے افرادی قوت فراہم کرنے اور بعض کارروائیوں کی ذمہ داری بی ایل اے کی جانب سے قبول کیے جانے کی حکمت عملی زیر بحث آئی۔یعنی کارروائی کوئی بھی کرے ذمہ داری بی ایل اے قبول کرے گی تاکہ میڈیا اور بیانیےکے محاذ پر بی ایل اے کو مضبوط دکھایا جائے۔

ذرائع نے 4 ستمبر 2026 کو زیارت میں ہونے والے حملے کے بارے میں بھی دعویٰ کیا کہ کارروائی  ٹی ٹی پی کے عناصر نے کی، تاہم ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی۔

ذرائع کے مطابق ملا معراج الدین فراہی کو بی ایل اے کے لیے افرادی قوت، مالی وسائل، اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی میں رابطہ کاری کی ذمہ داری دی گئی، جبکہ نئے بھرتی کیے گئے بلوچ نوجوانوں کو القاعدہ کے تربیتی مرکز میں تربیت دینے کا منصوبہ بھی بنایا گیا۔

پاکستان ماضی میں متعدد مرتبہ یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور کابل سے ایسی سرگرمیوں کو روکنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔