کوئٹہ،چمن پھاٹک پر سول آبادی کو نشانہ بنانے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بی ایل اے کے خلاف ایک مضبوط خفیہ آپریشن لانچ کیا،جس میں بی ایل اے کے ہی حراست میں لیے گئے کارندوں کی نشاندہی پر کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ یہ کارروائیاں مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں،بی ایل اے کے خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا گیا۔ کارروائی کے دوران چمن پھاٹک کے منصوبہ سازوں،سہولت کاروں سمیت 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے
Karim Baloch
“بلوچ ماؤں” کا نام لے کر جنگ کو جائز قرار دینا تکلم جاہلانہ اور فاسق حربہ ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بلوچ ماؤں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا کس نے؟
اگر بلوچستان میں ہر ماں غمزدہ ہے تو کیا وجہ ہے؟ کیا ان ماؤں کا درد درد نہیں جن کے بیٹے، شوہر، اساتذہ، مزدور، ڈاکٹر، انجینئر، پولیس اہلکار، لیویز اہلکار، سرکاری ملازمین اور عام شہری بی ایل اے کے مسلح حملوں میں مارے گئے؟ کیا ان خاندانوں کے آنسو اہمیت نہیں رکھتے؟ کیا اُن آنسوؤں میں درد نہیں ؟
بی ایل اے اور اس سے وابستہ گروہوں نے گزشتہ برسوں میں نہ صرف عام شہریوں کو نشانہ بنایا بلکہ بھتہ خوری، بینک ڈکیتی، مواصلاتی نظام، تعلیمی اداروں، گیس پائپ لائنوں، بجلی کے انفراسٹرکچر اور دیگر عوامی اثاثوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ ان کارروائیوں کا براہ راست اثر عام بلوچ خاندانوں پر پڑا۔
ایک اور حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں بدامنی، بھتہ خوری اور مسلح سرگرمیوں کے باعث ہزاروں بلوچ خاندان اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
سات سے زائد اضلاع سے بڑی تعداد میں لوگ روزگار، تعلیم اور تحفظ کی خاطر کراچی، کشمور، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان اور دیگر شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ اگر مسلح جدوجہد بلوچ عوام کی نمائندہ ہوتی تو بلوچ اپنے ہی علاقوں سے ہجرت کیوں کر رہے ہوتے؟
لاپتہ افراد کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ کتنے افراد بعد میں مسلح تنظیموں کی صفوں میں، تربیتی مراکز میں یا دہشت گرد کارروائیوں میں سامنے آئے۔ یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ کتنے نوجوانوں کو “قومی آزادی” کے نام پر بندوق تھمائی گئی جبکہ قیادت خود اور ان کے خاندان محفوظ ماحول میں زندگی گزارتے رہے۔اُن بلوچ ماؤں کے بچوں کو بی ایل اے کیوں اپنے گروہ میں شامل کرکے لاپتہ قرار دے دیتی ہے؟
بلوچ ماؤں کو جنگ نہیں چاہیے۔ انہیں اپنے بچوں کی تعلیم، روزگار، امن اور محفوظ مستقبل چاہیے۔ ایک ماں کا سب سے بڑا خواب اپنے بیٹے کو زندہ دیکھنا ہوتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ بلوچ ماؤں کے پاس جنگ کے علاوہ کیا آپشن ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو مسلسل جنگ، تشدد اور موت کی طرف دھکیلنے والوں نے امن، تعلیم، ترقی اور سیاسی جدوجہد کے راستے کو کیوں کمزور کیا؟
جس جدوجہد کا نتیجہ سکولوں کی بندش، سرمایہ کاری کی تباہی، روزگار کی کمی، عوامی اثاثوں کی تباہی، نقل مکانی اور مزید قبریں ہوں، اس کا سب سے بڑا نقصان عام بلوچ عوام اور بلوچ مائیں ہی اٹھاتی ہیں۔
“بلوچ ماؤں” کا نام لے کر جنگ کو جائز قرار دینا تکلم جاہلانہ اور فاسق حربہ ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بلوچ ماؤں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا کس نے؟
اگر بلوچستان میں ہر ماں غمزدہ ہے تو کیا وجہ ہے؟ کیا ان ماؤں کا درد درد نہیں جن کے بیٹے، شوہر، اساتذہ، مزدور، ڈاکٹر، انجینئر، پولیس اہلکار، لیویز اہلکار، سرکاری ملازمین اور عام شہری بی ایل اے کے مسلح حملوں میں مارے گئے؟ کیا ان خاندانوں کے آنسو اہمیت نہیں رکھتے؟ کیا اُن آنسوؤں میں درد نہیں ؟
بی ایل اے اور اس سے وابستہ گروہوں نے گزشتہ برسوں میں نہ صرف عام شہریوں کو نشانہ بنایا بلکہ بھتہ خوری، بینک ڈکیتی، مواصلاتی نظام، تعلیمی اداروں، گیس پائپ لائنوں، بجلی کے انفراسٹرکچر اور دیگر عوامی اثاثوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ ان کارروائیوں کا براہ راست اثر عام بلوچ خاندانوں پر پڑا۔
ایک اور حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں بدامنی، بھتہ خوری اور مسلح سرگرمیوں کے باعث ہزاروں بلوچ خاندان اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
سات سے زائد اضلاع سے بڑی تعداد میں لوگ روزگار، تعلیم اور تحفظ کی خاطر کراچی، کشمور، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان اور دیگر شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ اگر مسلح جدوجہد بلوچ عوام کی نمائندہ ہوتی تو بلوچ اپنے ہی علاقوں سے ہجرت کیوں کر رہے ہوتے؟
لاپتہ افراد کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ کتنے افراد بعد میں مسلح تنظیموں کی صفوں میں، تربیتی مراکز میں یا دہشت گرد کارروائیوں میں سامنے آئے۔ یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ کتنے نوجوانوں کو “قومی آزادی” کے نام پر بندوق تھمائی گئی جبکہ قیادت خود اور ان کے خاندان محفوظ ماحول میں زندگی گزارتے رہے۔اُن بلوچ ماؤں کے بچوں کو بی ایل اے کیوں اپنے گروہ میں شامل کرکے لاپتہ قرار دے دیتی ہے؟
بلوچ ماؤں کو جنگ نہیں چاہیے۔ انہیں اپنے بچوں کی تعلیم، روزگار، امن اور محفوظ مستقبل چاہیے۔ ایک ماں کا سب سے بڑا خواب اپنے بیٹے کو زندہ دیکھنا ہوتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ بلوچ ماؤں کے پاس جنگ کے علاوہ کیا آپشن ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو مسلسل جنگ، تشدد اور موت کی طرف دھکیلنے والوں نے امن، تعلیم، ترقی اور سیاسی جدوجہد کے راستے کو کیوں کمزور کیا؟
جس جدوجہد کا نتیجہ سکولوں کی بندش، سرمایہ کاری کی تباہی، روزگار کی کمی، عوامی اثاثوں کی تباہی، نقل مکانی اور مزید قبریں ہوں، اس کا سب سے بڑا نقصان عام بلوچ عوام اور بلوچ مائیں ہی اٹھاتی ہیں۔
کوئٹہ: 30 ستمبر 2025 کو ایف سی نارتھ ہیڈکوارٹر پر خودکش اور مسلح حملے کے ماسٹر مائنڈ کمانڈر بصیر کو ایک خفیہ آپریشن میں ہلاک کردیا گیا، جبکہ اس کا ایک قریبی ساتھی گرفتار کرلیا گیا۔
30 ستمبر 2025 کو ایف سی نارتھ ہیڈکوارٹر پر گاڑی میں نصب خودکش بمبار کے ذریعے حملے کے بعد ایک مسلح کارروائی بھی کی گئی تھی، جسے سکیورٹی فورسز نے ناکام بناتے ہوئے حملہ آوروں کو ہلاک کردیا تھا۔ اس واقعے کے بعد منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے ایک خفیہ آپریشن شروع کیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق تقریباً پانچ ماہ تک جاری رہنے والی کارروائی میں مختلف انٹیلی جنس ذرائع، نگرانی اور مربوط آپریشنز کے ذریعے ٹی ٹی پی کمانڈر بصیر کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 22 فروری 2026 کو پشین میں 5 خودکش حملہ آوروں پر مشتمل ایک گروہ بھی کارروائی میں مارا گیا،جو بصیر گینگ کا حصہ تھا۔
14 اور 15 مئی کو شابان میں ہونے والے آپریشن کے بعد دہشتگرد کمانڈرز کی نقل و حرکت پر نظر رکھی گئی، جس کے دوران بصیر اور اس کے ایک ساتھی کو شابان کے علاقے سے ٹریک کیا گیا۔
20 مئی کو دو گھنٹے تک جاری فائرنگ کے تبادلے کے بعد سارانان کے علاقے ارجم کلی میں بصیر مارا گیا جبکہ اس کا ساتھی زندہ گرفتار کرلیا گیا۔
بصیر گلستان کا رہائشی اور نور اللہ نامی دہشتگرد کمانڈر کا بیٹا تھا،
بلوچستان کے علاقے مند گوبرد میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے پہاڑی علاقوں سے شہر کی جانب آنے والے موٹر سائیکل سوار دو بی ایل اے دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگرد شہری علاقوں میں لوٹ مار اور بلوچ عوام کو نشانہ بنانے کی غرض سے داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، وائرلیس واکی ٹاکی، موبائل فونز اور انٹرنیٹ ڈیوائسز برآمد کر لی گئیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ عناصر وارداتوں کے بعد دوبارہ پہاڑی علاقوں میں فرار ہو جاتے تھے
سیکیورٹی فورسز نے بی ایل اے کا دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا
سیکیورٹی فورسز کو بی ایل اے کے اندر سے ہی خفیہ اطلاع موصول ہوئی کہ مستونگ کے علاقے کردگاپ میں کسی دہشتگرد منصوبے کی پلاننگ جاری ہے۔
انتہائی خفیہ انداز میں جدید جاسوسی آلات کا مہارت سے استعمال کرتے ہوئے ٹریس کیا گیا۔
سرویلئنس کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ دہشتگرد ایک بارود سے بھری گاڑی کو دہشتگرد منصوبے کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔جاسوسی کے دوران پتہ چلا کہ دہشتگرد کسی سول مقام کو نشانہ بناکر بلوچ عوام کو اذیت پہنچانا چاہتے ہیں مقصد اپنا ڈر واپس بٹھانا تھا۔
سیکیورٹی فورسز نے جدید آلات کا استعمال کرتے ہوئے دہشتگردوں کا وہ ٹھکانہ تباہ کردیا جہاں پلاننگ جاری تھی اور بارود سے بھری گاڑی بھی تباہ کردی گئی ہے۔
بی ایل اے نے آپریشن ہیروف ٹو کیوں لانچ کیا؟
بی ایل اے نے 2025 میں اپنی مسلسل شکست کو چھپانے کے لیے نئے سال کے آغاز پر نام نہاد دہشتگرد آپریشن “ہیروف ٹو” لانچ کیا۔ اس آپریشن پر بھاری سرمایہ کاری کی گئی، ایک سال تک تیاری کی گئی، غیر ملکی اسلحہ اکٹھا کیا گیا، جدید مواصلاتی آلات استعمال کیے گئے اور مکمل پلاننگ کے ساتھ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بلوچستان پر بی ایل اے کا کنٹرول ہے۔
آپریشن ہیروف ٹو کیسے ناکام ہوا؟
آپریشن جیسے ہی لانچ ہوا، چند گھنٹوں میں ہی ناکام ہوگیا۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے 344 سے زائد بی ایل اے کارندوں کو ہلاک کردیا جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ بھارتی سرمایہ کاری، جدید پلاننگ اور ایک سال کی تیاری کے باوجود بی ایل اے اپنا مقصد حاصل کرنے میں مکمل ناکام رہی۔
ناکامی کے بعد بی ایل اے نے نئی حکمت عملی کیا اپنائی؟
آپریشن کی ناکامی کے بعد بی ایل اے نے “ہِٹ اینڈ رن” پالیسی اپنالی۔ دہشتگرد چھپ کر آتے، عام بلوچ شہریوں کو ڈھال بناتے، انہی کا روپ دھارتے، معمولی حملے کرتے، ویڈیوز بناتے اور سوشل میڈیا پر ڈال کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے کہ بلوچستان پر اب بھی ان کا کنٹرول موجود ہے۔
بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کتنے مؤثر ہیں؟
حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بلوچستان بھر میں روزانہ 200 سے زائد خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ صرف گزشتہ دو دنوں میں 45 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ گزشتہ 6 ماہ میں سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں بی ایل اے سمیت دیگر دہشتگرد تنظیموں کے 600 سے زائد کارندے مارے ہیں۔
کن اہم دہشتگرد کمانڈرز کو ہلاک کیا گیا؟۔
ان میں ہائی ویلیو ٹارگٹ بھی شامل ہیں،جس میں ثاقب مری عرف شیدہ جسے 2 فروری کو ہلاک کیا گیا۔نعیم عرف ڈاکٹر کو 5 مارچ کو ہلاک کیا گیا تھا۔سہیل عرف لاشاری کو 25 اپریل کو مارا گیا،مہران لاشاری کو 25 اپریل کو ہلاک کیا اور سنگت عرف میجر نورا کو 2 مئی کو ہلاک کیا گیا۔ یہ وہ تمام بڑے نام ہیں جن کے ذریعے بی ایل اے مختلف علاقوں میں آپریٹ کرتی تھی،اس مقامی قیادت کی ہلاکت کے بعد بی ایل اے کا نیٹ ورک مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
بی ایل اے اب عام بلوچ عوام کو کیوں نشانہ بنا رہی ہے؟
اپنی مسلسل ناکامیوں کو چھپانے کے لیے بی ایل اے اب ایسے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے جہاں براہ راست بلوچ عوام متاثر ہورہے ہیں۔ مال بردار ٹرک جلائے جا رہے ہیں، بینک لوٹے جا رہے ہیں، مزدوروں کو اغواء کرکے تاوان مانگا جا رہا ہے اور عام بلوچ شہریوں پر حملے بڑھتے جا رہے ہیں۔
گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ساتھیوں سمیت اغواء کرنا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ درحقیقت بی ایل اے بلوچ عوام کے دلوں میں خوف بٹھانا چاہتی ہے تاکہ اپنی کمزور ہوتی طاقت کو برقرار دکھا سکے۔
اگر بی ایل اے مضبوط ہے تو سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ کیوں نہیں کرتی؟
اگر بی ایل اے واقعی مضبوط ہوتی تو سیکیورٹی فورسز کا براہ راست مقابلہ کرتی، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ نہتے بلوچ عوام کو آسان ہدف بنا کر ریاست کو کمزور ثابت کرنے کی ناکام کوشش کررہی ہے۔ یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشتگرد تنظیمیں میدان میں شکست کھا چکی ہیں۔
بلوچ عوام اور عمائدین کا ردعمل کیا ہے؟
بی ایل اے کی بوکھلاہٹ نے بلوچ عوام میں مزید غصہ پیدا کردیا ہے۔ بلوچ عمائدین کا کہنا ہے کہ بی ایل اے اور ان کے سہولت کاروں نے بلوچ عوام کے حقوق کے نام پر غیر ملکی ایجنڈا چلایا۔ جب ناکام ہوئے تو اب بلوچ عوام پر ہی ظلم شروع کردیا۔
بلوچ عمائدین کے مطابق یہ عناصر بلوچ عوام کے نمائندے نہیں بلکہ دہشتگرد اور کرائے کے ایجنٹ ہیں۔
گوادریونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد کو بی ایل اے نے اغواء کرلیا
دونوں اعلیٰ تعلیمی افسران گزشتہ روز گوادر سے کوئٹہ آرہے تھے کہ راستے میں ان سے رابطہ منقطع ہوگیا، جبکہ یونیورسٹی ذرائع نے مستونگ کے علاقے میں اغوا کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہےگوادریونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد سرکاری گاڑی میں کوئٹہ جارہے تھے۔
پولیس کے مطابق واقعے میں ایک لیکچرار اور گاڑی کا ڈرائیور بھی لاپتہ ہوئے ہیں یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں افسران ممکنہ طور پر مستونگ کے علاقے میں گاڑی سمیت اغوا ہوئے، جبکہ ان سے آخری رابطہ بھی مستونگ کے قریب ہوا تھا۔
وائس چانسلر کے خاندانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹر عبدالرزاق صابر پر بی ایل اے کی جانب سے شدید دباؤ تھا،وائس چانسلر بی ایل اے کے عزائم کو یونیورسٹی میں پورا نہیں ہونے دے رہے تھے۔ریاست مخالفت سرگرمیوں اور ذہن سازی سے متعلق اقدامات کو روکتے تھے۔
آسٹریلوی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے چارٹر، ایکٹ 1945 کے سیکشن 15 کے تحت تین افراد اور ایک کالعدم تنظیم کو ٹارگٹڈ فنانشل سینکشنز کے لیے فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
آسٹریلیا کے محکمہ خارجہ کی کالعدم فہرست میں بشیر زیب، حمل ریحان، جیئند بلوچ اور کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کا نام شامل ہے۔
آسٹریلوی حکام کے مطابق یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 کے تحت کیا گیا ہے۔ اس قرارداد کے تحت ریاستوں پر لازم ہے کہ دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث، ان میں حصہ لینے والے یا سہولت کاری کرنے والے افراد اور اداروں کے فنڈز، مالی اثاثے اور معاشی وسائل فوری طور پر منجمد کیے جائیں۔
پابندیوں کے تحت آسٹریلیا میں کسی بھی شخص یا ادارے کے لیے فہرست میں شامل افراد یا تنظیموں کے اثاثے استعمال کرنا، منتقل کرنا، ان سے لین دین کرنا یا انہیں مالی فائدہ پہنچانا جرم ہوگا۔
افغانستان میں آپریشن غضب للحق میں گہری چوٹ اور نقصان پہنچنے کے بعد کالعدم بی ایل اے نے ماسٹر پراکسی افغان طالبان کیساتھ ملکر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے،جسے خفیہ ایجنسیوں نے ٹریک کرلیا ہے۔
گزشتہ دنوں جب چمن سیکٹر میں افغان طالبان نے باڑ کاٹ کر دہشتگردوں کو پاکستان داخل کرنے کی کوشش کی،جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ناکام بنادیا تھا۔
اُس کارروائی کے بعد جب مختلف سورسز،سیٹلائٹ ڈیٹا، فون ریکارڈز اور دیگر ذرائع سے ملنی والے معلومات کا جائزہ لیا گیا تو انکشاف ہوا ہے کہ کالعدم بی ایل اے ہیروف ٹو اور غضب للحق میں اپنی ناکامی،شکست کو فیس سیونگ دینے اور دھاک بٹھانے کی ناکام کوشش کے لئے ہیروف کی طرز پر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔
اس مرتبہ پھر براہ راست عوام کو نشانہ بنایا جائے گا جس کا مقصد بلوچ عوام کے دلوں میں اپنا خوف بٹھانا ہے۔اس مقصد کے تحت کارروائیوں کا دائرہ کار کراچی تک بڑھانے کی منصوبہ بندی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
بی ایل اے براہ راست عوامی مقامات، پٹرول پمپس، بنک، سول و ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہی تھی، تاکہ بریکنگ نیوز نکلے، بڑی سُرخیاں لگیں، عوام میں خوف و ہراس پھیلے اور یوں ان کے سہولت کاروں،ہینڈلرز اور ماسٹرمائنڈز کا ٹارگٹ پورا ہوسکے۔
سیکیورٹی فورسز نے اس ضمن میں ضروری اقدامات شروع کردیے ہیں اور کالعدم بی ایل اے کی پلاننگ کو وقت سے پہلے جانچ کر کاؤنٹر کرنے کی حکمت عملی تیار کرکھی ہے جس کو عملی طور پر نافذ بھی کردیا گیا ہے
