17 April 2026

Balochistan Insight

Karim Baloch

Screenshot 2026-04-16 160124

بی ایل اے کے دہشتگردوں نے15 اور 16 اپریل کی درمیانی شب کچلاک کے علاقے میں ایف سی بلوچستان کی ایک چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق چوکس اور مستعد جوانوں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دہشتگردوں کے حملے کو ناکام بنا دیا۔ جوابی کارروائی میں دو دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ کارروائی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے موقع سے اسلحہ، دستی بم اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا۔

HBXgeqZXAAAb7Ao

پاکستان نے ایران کے راستے وسطی ایشیا تک ایک نئی تجارتی راہداری کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت پہلی کھیپ پیر کے روز گوادر بندرگاہ سے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند کے لیے روانہ کر دی گئی۔

ذرائع کے مطابق اس کھیپ میں منجمد گوشت شامل ہے، جو اس نئے روٹ کے تحت بھیجا گیا۔ یہ پیش رفت پاکستان کی علاقائی تجارت کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش قرار دی جا رہی ہے۔

یہ تجارتی راہداری گوادر بندرگاہ سے شروع ہو کر پاک ایران سرحد پر گبد۔ریمدان کراسنگ کے ذریعے ایران میں داخل ہوتی ہے، جہاں سے یہ راستہ وسطی ایشیائی ممالک تک جاتا ہے۔

حکام کے مطابق یہ نظام اقوام متحدہ کے ٹی آئی آر ٹرانزٹ فریم ورک کے تحت چلایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے سیل شدہ گاڑیاں کم سے کم چیکنگ کے ساتھ متعدد سرحدیں عبور کر سکتی ہیں، جس سے وقت اور لاگت میں نمایاں کمی آتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے روٹ سے نہ صرف ٹرانزٹ ٹائم کم ہوگا بلکہ لاجسٹکس اخراجات بھی کم ہوں گے، جبکہ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان براہ راست تجارتی رابطہ بھی قائم ہوگا۔

اس کے علاوہ کراچی اور گوادر بندرگاہوں پر کارگو کی آمد و رفت میں اضافہ متوقع ہے، جس سے پاکستان کی بندرگاہی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

یہ راہداری افغانستان کے راستے کے متبادل کے طور پر بھی سامنے آئی ہے، کیونکہ اکتوبر 2025 میں سرحدی کشیدگی کے بعد طورخم اور چمن بارڈرز بند ہونے سے وسطی ایشیا تک زمینی رسائی متاثر ہوئی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس راہداری کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، جس سے اس منصوبے کی جغرافیائی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

یہ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے بھی منسلک ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں اسے وسطی ایشیائی منڈیوں تک وسعت دی جائے گی، جس سے علاقائی تجارت میں مزید اضافہ ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے بلوچستان میں روزگار اور ترقی کے مواقع بڑھیں گے،تاہم اس دوران بی ایل اے جیسے گروہ اپنی سرگرمیاں تیز کریں گے تاکہ اس کو سبوتاژ کیا جاسکے
گزشتہ دنوں جیوانی میں کوسٹ گارڈ کے تین جوانوں کو بی ایل اے کے دہشتگردوں نے اسی مقصد کے تحت شہید کیا تھا تاکہ بلوچستان کے عوام کے لئے روزگار کے مواقع پیدا نہ ہوسکیں

Oil-Refinery-Gwadar

سعودی عرب کی جانب سے گوادر میں آئل ریفائنری کے قیام کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت 4 لاکھ بیرل تک ہو سکتی ہے، جبکہ اس منصوبے میں پاکستانی کمپنیوں کی 40 سے 45 فیصد تک شراکت متوقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق سعودی کمپنی آرامکو پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر کام کرے گی۔ منصوبے کو فروغ دینے کے لیے 20 سالہ ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ شراکت دار پاکستانی کمپنیوں میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور گورنمنٹ ہولڈنگز پاکستان لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) شامل ہیں

WhatsApp Image 2026-04-09 at 4.16.38 PM

افغانستان سے منسلک کچھ اہم ترین ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب نے حال ہی میں افغانستان کے شہر ہرات میں گورنر مولوی نور محمد سلام سے اہم ملاقات کی ہے۔


ملاقات کا مقصد پاکستان سے پراکسیز یعنی بی ایل اے کے ذریعے بدلہ لینا تھا،انتقام لینا تھا،جو ایجنڈہ ڈسکس کیا گیا اس میں یہ طے پایا ہے کہ مولوی نور محمد بشیر زیب کو ہتھیار،پیسے اور دیگر معاونت فراہم کرے گا۔


جس کے تحت بلوچستان میں ایک بار پھر دہشتگردکارروائیوں میں تیزی لائی جائے گی۔چونکہ افغان طالبان براہ راست پاکستان سے لڑنے کی سکت نہیں رکھتے،جو کوشش کی تھی اس میں ناکام رہے۔ایک بار پھر پاکستان کے خلاف بی ایل اے کے ذریعے پراکسی محاذ گرم کرنے کا پلان بے نقاب ہوا ہے۔

1566010_8724397_16_updates

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کر لیا، جس سے بڑی تباہی ٹل گئی۔

نیوز کانفرنس میں انہوں نے سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت کارروائی نے قیمتی جانیں بچائیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گرد بلوچ خواتین کا استحصال کر رہے ہیں اور کالعدم تنظیم بی ایل اے نے خواتین کے احترام کو ختم کیا ہے، جبکہ نوجوانوں کو انتہاپسندی کی طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے حساس معلومات فراہم کر رہے ہیں اور سیکیورٹی فورسز نے صوبے کو محفوظ بنایا ہے۔

سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بلوچ قوم غیرت مند ہے اور اسے لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ خواتین کے معاملات کو لیڈیز پولیس کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

گرفتار خاتون لائبہ نے نیوز کانفرنس میں اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ میرا ضلع خضدار سے تعلق ہے، گھر میں اور گاؤں میں لوگ فرزانہ کے نام سے جانتے ہیں، مجھے طالبان کمانڈر ابراہیم نے خودکش بمباری کے لیے ذہن سازی کے بعد تیار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کمانڈر ابراہیم نے میرا رابطہ دل جان سے کروایا، جس نے مجھے بی وائی سی (بلوچ یکجہتی کمیٹی) کی راہنما ڈاکٹر صبیحہ سے ملوانا تھا، مجھے خودکش مشن کے لیے تیار کیا گیا تھا لیکن گرفتار ہوگئی، مجھے ٹارگٹ دیا گیا تھا کہ مزید لڑکیوں کو خود کش حملوں کے لیے تیار کروں، لیکن میں تمام خواتین سے کہوں گی کہ کسی غلط سرگرمی کا حصہ نہ بنیں۔

Screenshot 2026-03-03 130033

افغان طالبان کے 16 مقامات پر حملے پسپا کردیے گئے،جوابی کارروائی میں 27 افغان طالبان ہلاک،ایف سی بلوچستان کا ایک جوان شہید

۔ بلوچستان سرحد پر بھی افغان طالبان کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑرہا تھا،پاکستان نے ژوب سیکٹر میں 32 مربع کلومیٹر کا علاقہ بھی فتح کرلیا تھا۔ لڑنے اور حملوں کی طاقت ختم ہوئی تو بی ایل اے سے مدد لیکر گزشتہ رات افغان طالبان نے شمالی بلوچستان کے 16 مقامات پر حملے کیے۔

جن میں قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن کے اضلاع شامل ہیں۔ پاک فوج کی جانب سے تمام حملوں کو مؤثر انداز میں پسپا کیا گیا،افغان طالبان اور بی ایل اے کے 27 کارندے ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ اس دوران حملوں کو پسپا کرتے ہوئے ایف سی بلوچستان کا 1 جوان جام شہادت نوش کرگیا

428673_7119224_updates

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے تمام قبائل کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز کاساتھ دیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلیدہ میں خواتین کا قتل کیا گیا،میں اس کی مذمت کرتا ہوں، تمام قبائل کو چاہیے کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز کاساتھ دیں۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ترقی امن سے آتی ہے، اللہ کا شکر ہے بیکڑ میں بہت امن ہے، بیکڑ میں ڈیرہ بگٹی کے لوگوں اور قبائل نے امن قائم کیا ہے، میں بلوچستان کےلوگوں سے اکثرکہتا ہوں کہ آپ اپنے علاقوں میں امن قائم کرسکتے ہیں۔

Screenshot 2026-02-26 141626

معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کی مد میں وفاق کو 119 ارب روپے ملتا ہے اور اتنی ہی رقم صوبے کو بھی ملتی ہے، جبکہ معدنیات پر کام کرنے والی کمپنیاں صوبائی حکومت کو علاقے کی فلاح و بہبود کی مد میں 12 ارب الگ سے رقم دیتی ہیں۔
جن سرداروں یا پھر قوم پرست بلوچ رہنماؤں کی زمینوں سے معدنیات نکلتی ہے وہ 23ارب روپے رائیلٹی کی مد میں الگ سے وصول کرتے ہیں،سوال ہونا چاہیے کہ اختر مینگل جیسے بلوچ سردار وہ رقم کہاں خرچ کرتے ہیں ؟
جس علاقے سے معدنیات نکل رہی ہوتی ہیں ، وہاں کے مقامی افراد کو تعلیم، علاج اور بجلی مفت ملتی ہے

fire2

بلوچ عوام میں بی ایل اے کا ڈر ختم ہورہا ہے،ڈر کے کھیل میں بی ایل اے جس کو چاہتی تھی اپنے لئے استعمال کرتی تھی۔

بلیدہ میں ایک بلوچ خاندان نے بی ایل اے کے انٹیلی جنس یونٹ کے لئے کام کرنے سے انکار کیا،سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت سمیت دیگر خفیہ معلومات اکھٹی کرنے سے انکار کیا۔ اُس خاندان پر شدید دباؤ ڈالا جاتا رہا،وہ مسلسل انکار کرتے رہے،حالیہ ناکام حملوں کے بعد تو ویسے بھی بلوچ عوام بی ایل اے کے لئے شدید نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔

ڈر قائم کرنے کےلئے بی ایل اے نے مقامی بلوچ خاندان پر حملہ کیا،مارٹر گولوں سے ان کا گھر جلادیا،گھر کی 3 خواتین اور 3 مردوں کو شہید کردیا،3 بچے زخمی کردیے۔ اس دوران ایک حملہ آور مقامی افراد کے ہتھے چڑھ گیا،جسے لوگوں نے جلاکر راکھ کردیا اور بی ایل اے کو پیغام دیا کہ ان کے ظلم و ستم کے سامنے جھکیں گے نہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بی ایل اے پہلے مقامی بلوچ افراد کو ڈرا دھمکا کر یا لالچ دیکر مخبری کرالیتی تھی،اب اب نہ صرف بلوچ عوام ان کو انکار کرتے ہیں بلکہ سیکیورٹی فورسز کو بھی آگاہ کرتے ہیں۔

HBtDdoNbgAAiXcP

ذرائع کے مطابق بی ایل اے نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر مسلح اہلکاروں کو اغواء کیا،مقصد حالیہ ناکام حملوں کی خفت مٹانا تھا۔

جس دن یہ واقعہ پیش آیا اُسی دن سے سیکیورٹی فورسز نے بازیابی کے لئے آپریشن لانچ کردیا تھا۔ چونکہ ایسے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن انتہائی حساس ہوتے ہیں اس لئے ان کی تفصیلات عوامی سطح پر نہیں لائی جاتی،البتہ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ضروری تفصیلات جاری کی جاتی ہیں۔

اس وقت سیکیورٹی فورسز اپنے جوانوں کو بازیاب کرانے کے لئے بڑے پیمانے پر آپریشن کررہی ہے۔