01 June 2026

Balochistan Insight

پاکستان

German ambassador

پاکستان کا موقف دنیا نے تسلیم کرنا شروع کردیا ہے،ایک وقت تھا،غیر ملکی عناصر،لابنگ کے باعث بی ایل اے کو دنیا کو دہشتگرد تسلیم نہیں کرتی تھی،علیحدگی پسند قرار دیکر ان کی کارروائیوں کو جواز بخش دیا جاتا تھا۔

لیکن پاکستان کی موثر کوششوں اور بی ایل اے کی جانب سے مسلسل بلوچ عوام پر حملوں کے بعد دنیا نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ بی ایل اے ایک دہشتگرد گروہ ہے۔ اب بی ایل اے کے بلوچ عوام پر ہر ظلم کی دنیا مذمت بھی کرتی ہے اور بلوچ عوام کا ساتھ بھی دیتی ہے۔

پاکستان میں تعینات جرمن سفیر نے خضدار میں لیڈی کانسٹیبل ملک ناز کی بی ایل اے کے ہاتھوں شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو قابل افسوس اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ جرمن سفیر نے شہید ملک ناز کے شوہر اور تین بچوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

Oil-Refinery-Gwadar

سعودی عرب کی جانب سے گوادر میں آئل ریفائنری کے قیام کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت 4 لاکھ بیرل تک ہو سکتی ہے، جبکہ اس منصوبے میں پاکستانی کمپنیوں کی 40 سے 45 فیصد تک شراکت متوقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق سعودی کمپنی آرامکو پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر کام کرے گی۔ منصوبے کو فروغ دینے کے لیے 20 سالہ ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ شراکت دار پاکستانی کمپنیوں میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور گورنمنٹ ہولڈنگز پاکستان لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) شامل ہیں

fire2

بلوچ عوام میں بی ایل اے کا ڈر ختم ہورہا ہے،ڈر کے کھیل میں بی ایل اے جس کو چاہتی تھی اپنے لئے استعمال کرتی تھی۔

بلیدہ میں ایک بلوچ خاندان نے بی ایل اے کے انٹیلی جنس یونٹ کے لئے کام کرنے سے انکار کیا،سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت سمیت دیگر خفیہ معلومات اکھٹی کرنے سے انکار کیا۔ اُس خاندان پر شدید دباؤ ڈالا جاتا رہا،وہ مسلسل انکار کرتے رہے،حالیہ ناکام حملوں کے بعد تو ویسے بھی بلوچ عوام بی ایل اے کے لئے شدید نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔

ڈر قائم کرنے کےلئے بی ایل اے نے مقامی بلوچ خاندان پر حملہ کیا،مارٹر گولوں سے ان کا گھر جلادیا،گھر کی 3 خواتین اور 3 مردوں کو شہید کردیا،3 بچے زخمی کردیے۔ اس دوران ایک حملہ آور مقامی افراد کے ہتھے چڑھ گیا،جسے لوگوں نے جلاکر راکھ کردیا اور بی ایل اے کو پیغام دیا کہ ان کے ظلم و ستم کے سامنے جھکیں گے نہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بی ایل اے پہلے مقامی بلوچ افراد کو ڈرا دھمکا کر یا لالچ دیکر مخبری کرالیتی تھی،اب اب نہ صرف بلوچ عوام ان کو انکار کرتے ہیں بلکہ سیکیورٹی فورسز کو بھی آگاہ کرتے ہیں۔