“بلوچ ماؤں” کا نام لے کر جنگ کو جائز قرار دینا تکلم جاہلانہ اور فاسق حربہ ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بلوچ ماؤں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا کس نے؟
اگر بلوچستان میں ہر ماں غمزدہ ہے تو کیا وجہ ہے؟ کیا ان ماؤں کا درد درد نہیں جن کے بیٹے، شوہر، اساتذہ، مزدور، ڈاکٹر، انجینئر، پولیس اہلکار، لیویز اہلکار، سرکاری ملازمین اور عام شہری بی ایل اے کے مسلح حملوں میں مارے گئے؟ کیا ان خاندانوں کے آنسو اہمیت نہیں رکھتے؟ کیا اُن آنسوؤں میں درد نہیں ؟
بی ایل اے اور اس سے وابستہ گروہوں نے گزشتہ برسوں میں نہ صرف عام شہریوں کو نشانہ بنایا بلکہ بھتہ خوری، بینک ڈکیتی، مواصلاتی نظام، تعلیمی اداروں، گیس پائپ لائنوں، بجلی کے انفراسٹرکچر اور دیگر عوامی اثاثوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ ان کارروائیوں کا براہ راست اثر عام بلوچ خاندانوں پر پڑا۔
ایک اور حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں بدامنی، بھتہ خوری اور مسلح سرگرمیوں کے باعث ہزاروں بلوچ خاندان اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
سات سے زائد اضلاع سے بڑی تعداد میں لوگ روزگار، تعلیم اور تحفظ کی خاطر کراچی، کشمور، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان اور دیگر شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ اگر مسلح جدوجہد بلوچ عوام کی نمائندہ ہوتی تو بلوچ اپنے ہی علاقوں سے ہجرت کیوں کر رہے ہوتے؟
لاپتہ افراد کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ کتنے افراد بعد میں مسلح تنظیموں کی صفوں میں، تربیتی مراکز میں یا دہشت گرد کارروائیوں میں سامنے آئے۔ یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ کتنے نوجوانوں کو “قومی آزادی” کے نام پر بندوق تھمائی گئی جبکہ قیادت خود اور ان کے خاندان محفوظ ماحول میں زندگی گزارتے رہے۔اُن بلوچ ماؤں کے بچوں کو بی ایل اے کیوں اپنے گروہ میں شامل کرکے لاپتہ قرار دے دیتی ہے؟
بلوچ ماؤں کو جنگ نہیں چاہیے۔ انہیں اپنے بچوں کی تعلیم، روزگار، امن اور محفوظ مستقبل چاہیے۔ ایک ماں کا سب سے بڑا خواب اپنے بیٹے کو زندہ دیکھنا ہوتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ بلوچ ماؤں کے پاس جنگ کے علاوہ کیا آپشن ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو مسلسل جنگ، تشدد اور موت کی طرف دھکیلنے والوں نے امن، تعلیم، ترقی اور سیاسی جدوجہد کے راستے کو کیوں کمزور کیا؟
جس جدوجہد کا نتیجہ سکولوں کی بندش، سرمایہ کاری کی تباہی، روزگار کی کمی، عوامی اثاثوں کی تباہی، نقل مکانی اور مزید قبریں ہوں، اس کا سب سے بڑا نقصان عام بلوچ عوام اور بلوچ مائیں ہی اٹھاتی ہیں۔
