افغانستان میں آپریشن غضب للحق میں گہری چوٹ اور نقصان پہنچنے کے بعد کالعدم بی ایل اے نے ماسٹر پراکسی افغان طالبان کیساتھ ملکر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے،جسے خفیہ ایجنسیوں نے ٹریک کرلیا ہے۔
گزشتہ دنوں جب چمن سیکٹر میں افغان طالبان نے باڑ کاٹ کر دہشتگردوں کو پاکستان داخل کرنے کی کوشش کی،جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ناکام بنادیا تھا۔
اُس کارروائی کے بعد جب مختلف سورسز،سیٹلائٹ ڈیٹا، فون ریکارڈز اور دیگر ذرائع سے ملنی والے معلومات کا جائزہ لیا گیا تو انکشاف ہوا ہے کہ کالعدم بی ایل اے ہیروف ٹو اور غضب للحق میں اپنی ناکامی،شکست کو فیس سیونگ دینے اور دھاک بٹھانے کی ناکام کوشش کے لئے ہیروف کی طرز پر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔
اس مرتبہ پھر براہ راست عوام کو نشانہ بنایا جائے گا جس کا مقصد بلوچ عوام کے دلوں میں اپنا خوف بٹھانا ہے۔اس مقصد کے تحت کارروائیوں کا دائرہ کار کراچی تک بڑھانے کی منصوبہ بندی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
بی ایل اے براہ راست عوامی مقامات، پٹرول پمپس، بنک، سول و ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہی تھی، تاکہ بریکنگ نیوز نکلے، بڑی سُرخیاں لگیں، عوام میں خوف و ہراس پھیلے اور یوں ان کے سہولت کاروں،ہینڈلرز اور ماسٹرمائنڈز کا ٹارگٹ پورا ہوسکے۔
سیکیورٹی فورسز نے اس ضمن میں ضروری اقدامات شروع کردیے ہیں اور کالعدم بی ایل اے کی پلاننگ کو وقت سے پہلے جانچ کر کاؤنٹر کرنے کی حکمت عملی تیار کرکھی ہے جس کو عملی طور پر نافذ بھی کردیا گیا ہے
