01 June 2026

Balochistan Insight

2555720-nationalresourcelimitedgetexplorationlicenceinchaghibalochistan-1698069752-503-640x480-1

بی ایل اے کے عام بلوچ عوام پر حملوں میں تیزی آگئی ،بلوچستان کے ضلع چاغی میں بی ایل اے نے 9 بلوچ مزدوروں کو نشانہ بناکر شہید کردیا۔

یہ بلوچ مزدور چاغی میں بلوچستان کی فلاح و بہبود کے لئے ترقیاتی منصوبوں پر کام کررہے تھے،بی ایل اے نے این 40 پر مزدوروں کو روک کر نشانہ بنایا ۔سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لیا اور کلیئرنس آپریشن شروع کردیا اور مزید نقصان سے بچالیا۔

مقامی افراد کے مطابق،بی ایل اے کے دہشتگردوں نے مقامی بلوچ ورکروں کو نشانہ بنایا ،دو بلوچ سیکیورٹی گارڈز کو بھی شہید کیا۔

دہشتگرد یہ کہتے ہوئے بھی پائے گئے کہ بلوچستان کی ترقی کے لئے جاری کسی بھی منصوبے پر کام مکمل نہیں ہونے دیں گے۔

بلوچ عمائدین نے شدید مذمت کی ہے ،خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی اور بلوچ مزدوروں پر حملوں سے بی ایل اے بلوچ دشمنی کا ثبوت دے رہے ہیں۔یہ ہمارے حقوق کی نہیں بلکہ ہماری تباہی کی جنگ لڑرہے ہیں۔

Screenshot 2026-04-22 155823

بلوچستان میں گزشتہ کچھ عرصے میں خواتین کا دہشتگرد حملوں کے لئے استعمال بڑھتا جارہا ہےکچھ ماہ قبل بی ایل اے نے ہیروف 2 نامی دہشتگرد حملوں میں بھی خواتین کا استعمال کیا ۔
اس کے علاوہ ایف سی ہیڈکوارٹر نوشکی پر خودکش حملے میں استعمال ہونے والی زرینہ رفیق کی بھی سہولت کاری میں ایک عورت استعمال ہوئی،جس کا نام رحیمہ بلوچ ہے اور گزشتہ دنوں گرفتار ہونے کے بعد رحیمہ نے خود ان تمام جرائم کا اعتراف کیا۔
مختلف طریقوں سے خواتین کو استعمال کیا جاتاہے،کہیں بلیک میل کرکے تو کہیں پیسوں کی لالچ دیکر۔
چونکہ خواتین کی سہولت کاری میں کسی کو شک بھی نہیں ہوتا اور بلوچ قبائلی روایات کے تحت خواتین کی تلاشی اور دیگر تحقیقاتی پہلوؤں میں بھی دشواری پیش آتی ہے۔ اسی لئے بی ایل اے خواتین کا استعمال کرتی ہے۔
اسی طرح ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تربت سے خدیجہ بلوچ کو حراست میں لیا گیا ہے۔خدیجہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز میں بی ایس نرسنگ کے ساتویں سمسٹر کی طالبہ ہے۔
کچھ گرفتار دہشتگردوں اور انٹیلی جینس اطلاعات کی بنیاد پر معلوم ہوا کہ خدیجہ دہشتگردوں کی معاونت اور سہولت کاری میں ملوث ہے ۔اس لئے تحقیقات اور تفتیش کی غرض سے خدیجہ کو حراست میں لیکر حراستی مرکز منتقل کیا گیا ہے۔
اس تمام واقعے کو خدیجہ کے اہل خانہ کے علم میں لایا گیا ہے،کسی قسم کی کوئی جبری گمشدگی یا مسنگ پرسن کا عنصر شامل نہیں کیا گیا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چونکہ مسنگ پرسن کے نام پر دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کرنے کا پرانا وطیرہ ہے،جس میں بی وائے سی اور دیگر عنصر دہشتگردوں کی معاونت کرتے ہیں اسی لئے پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے ۔
خدیجہ بلوچ سے اس حوالے سے بھی تحقیقات کی جارہی ہے کہ وہ یونیورسٹی میں معصوم طالبات کی بی ایل اے کے لئے ذہن سازی کاکام بھی کررہی تھی۔

German ambassador

پاکستان کا موقف دنیا نے تسلیم کرنا شروع کردیا ہے،ایک وقت تھا،غیر ملکی عناصر،لابنگ کے باعث بی ایل اے کو دنیا کو دہشتگرد تسلیم نہیں کرتی تھی،علیحدگی پسند قرار دیکر ان کی کارروائیوں کو جواز بخش دیا جاتا تھا۔

لیکن پاکستان کی موثر کوششوں اور بی ایل اے کی جانب سے مسلسل بلوچ عوام پر حملوں کے بعد دنیا نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ بی ایل اے ایک دہشتگرد گروہ ہے۔ اب بی ایل اے کے بلوچ عوام پر ہر ظلم کی دنیا مذمت بھی کرتی ہے اور بلوچ عوام کا ساتھ بھی دیتی ہے۔

پاکستان میں تعینات جرمن سفیر نے خضدار میں لیڈی کانسٹیبل ملک ناز کی بی ایل اے کے ہاتھوں شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو قابل افسوس اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ جرمن سفیر نے شہید ملک ناز کے شوہر اور تین بچوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

Khuzdar Lady Constable Malik Naz

بی ایل اے نے بلوچستان کی بیٹیوں کو نشانے پر رکھ لیا ہے،کیا بی ایل اے بلوچ قوم کی نسلوں کو ختم کرنا چاہتی ہے؟ خواتین کو ٹارگٹ کرکے کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟ بلوچستان کے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی لیڈی کانسٹیبل ملک ناز کو بی ایل اے نے ٹارگٹ کرکے شہید کردیا اس سے قبل بی ایل اے کی جانب سے بلوچ خواتین کو مختلف طریقوں سے خود کش بمبار بنایا جاتا ہے،بلیک میل کیا جاتا ہے۔اب خواتین پر براہ راست حملے بھی شروع کردیے ہیں۔ بلوچ عمائدین نے سوال اٹھایا ہے کہ بلوچ یکجہیتی کمیٹی جیسے پلیٹ فارم اب کیوں خاموش ہیں؟ کیا ملک ناز بلوچستان کی بیٹی نہیں؟

Screenshot 2026-04-16 160124

بی ایل اے کے دہشتگردوں نے15 اور 16 اپریل کی درمیانی شب کچلاک کے علاقے میں ایف سی بلوچستان کی ایک چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق چوکس اور مستعد جوانوں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دہشتگردوں کے حملے کو ناکام بنا دیا۔ جوابی کارروائی میں دو دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ کارروائی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے موقع سے اسلحہ، دستی بم اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا۔

HBXgeqZXAAAb7Ao

پاکستان نے ایران کے راستے وسطی ایشیا تک ایک نئی تجارتی راہداری کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت پہلی کھیپ پیر کے روز گوادر بندرگاہ سے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند کے لیے روانہ کر دی گئی۔

ذرائع کے مطابق اس کھیپ میں منجمد گوشت شامل ہے، جو اس نئے روٹ کے تحت بھیجا گیا۔ یہ پیش رفت پاکستان کی علاقائی تجارت کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش قرار دی جا رہی ہے۔

یہ تجارتی راہداری گوادر بندرگاہ سے شروع ہو کر پاک ایران سرحد پر گبد۔ریمدان کراسنگ کے ذریعے ایران میں داخل ہوتی ہے، جہاں سے یہ راستہ وسطی ایشیائی ممالک تک جاتا ہے۔

حکام کے مطابق یہ نظام اقوام متحدہ کے ٹی آئی آر ٹرانزٹ فریم ورک کے تحت چلایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے سیل شدہ گاڑیاں کم سے کم چیکنگ کے ساتھ متعدد سرحدیں عبور کر سکتی ہیں، جس سے وقت اور لاگت میں نمایاں کمی آتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے روٹ سے نہ صرف ٹرانزٹ ٹائم کم ہوگا بلکہ لاجسٹکس اخراجات بھی کم ہوں گے، جبکہ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان براہ راست تجارتی رابطہ بھی قائم ہوگا۔

اس کے علاوہ کراچی اور گوادر بندرگاہوں پر کارگو کی آمد و رفت میں اضافہ متوقع ہے، جس سے پاکستان کی بندرگاہی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

یہ راہداری افغانستان کے راستے کے متبادل کے طور پر بھی سامنے آئی ہے، کیونکہ اکتوبر 2025 میں سرحدی کشیدگی کے بعد طورخم اور چمن بارڈرز بند ہونے سے وسطی ایشیا تک زمینی رسائی متاثر ہوئی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس راہداری کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، جس سے اس منصوبے کی جغرافیائی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

یہ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے بھی منسلک ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں اسے وسطی ایشیائی منڈیوں تک وسعت دی جائے گی، جس سے علاقائی تجارت میں مزید اضافہ ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے بلوچستان میں روزگار اور ترقی کے مواقع بڑھیں گے،تاہم اس دوران بی ایل اے جیسے گروہ اپنی سرگرمیاں تیز کریں گے تاکہ اس کو سبوتاژ کیا جاسکے
گزشتہ دنوں جیوانی میں کوسٹ گارڈ کے تین جوانوں کو بی ایل اے کے دہشتگردوں نے اسی مقصد کے تحت شہید کیا تھا تاکہ بلوچستان کے عوام کے لئے روزگار کے مواقع پیدا نہ ہوسکیں

Oil-Refinery-Gwadar

سعودی عرب کی جانب سے گوادر میں آئل ریفائنری کے قیام کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت 4 لاکھ بیرل تک ہو سکتی ہے، جبکہ اس منصوبے میں پاکستانی کمپنیوں کی 40 سے 45 فیصد تک شراکت متوقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق سعودی کمپنی آرامکو پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر کام کرے گی۔ منصوبے کو فروغ دینے کے لیے 20 سالہ ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ شراکت دار پاکستانی کمپنیوں میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور گورنمنٹ ہولڈنگز پاکستان لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) شامل ہیں

WhatsApp Image 2026-04-09 at 4.16.38 PM

افغانستان سے منسلک کچھ اہم ترین ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب نے حال ہی میں افغانستان کے شہر ہرات میں گورنر مولوی نور محمد سلام سے اہم ملاقات کی ہے۔


ملاقات کا مقصد پاکستان سے پراکسیز یعنی بی ایل اے کے ذریعے بدلہ لینا تھا،انتقام لینا تھا،جو ایجنڈہ ڈسکس کیا گیا اس میں یہ طے پایا ہے کہ مولوی نور محمد بشیر زیب کو ہتھیار،پیسے اور دیگر معاونت فراہم کرے گا۔


جس کے تحت بلوچستان میں ایک بار پھر دہشتگردکارروائیوں میں تیزی لائی جائے گی۔چونکہ افغان طالبان براہ راست پاکستان سے لڑنے کی سکت نہیں رکھتے،جو کوشش کی تھی اس میں ناکام رہے۔ایک بار پھر پاکستان کے خلاف بی ایل اے کے ذریعے پراکسی محاذ گرم کرنے کا پلان بے نقاب ہوا ہے۔

1566010_8724397_16_updates

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کر لیا، جس سے بڑی تباہی ٹل گئی۔

نیوز کانفرنس میں انہوں نے سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت کارروائی نے قیمتی جانیں بچائیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گرد بلوچ خواتین کا استحصال کر رہے ہیں اور کالعدم تنظیم بی ایل اے نے خواتین کے احترام کو ختم کیا ہے، جبکہ نوجوانوں کو انتہاپسندی کی طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے حساس معلومات فراہم کر رہے ہیں اور سیکیورٹی فورسز نے صوبے کو محفوظ بنایا ہے۔

سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بلوچ قوم غیرت مند ہے اور اسے لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ خواتین کے معاملات کو لیڈیز پولیس کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

گرفتار خاتون لائبہ نے نیوز کانفرنس میں اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ میرا ضلع خضدار سے تعلق ہے، گھر میں اور گاؤں میں لوگ فرزانہ کے نام سے جانتے ہیں، مجھے طالبان کمانڈر ابراہیم نے خودکش بمباری کے لیے ذہن سازی کے بعد تیار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کمانڈر ابراہیم نے میرا رابطہ دل جان سے کروایا، جس نے مجھے بی وائی سی (بلوچ یکجہتی کمیٹی) کی راہنما ڈاکٹر صبیحہ سے ملوانا تھا، مجھے خودکش مشن کے لیے تیار کیا گیا تھا لیکن گرفتار ہوگئی، مجھے ٹارگٹ دیا گیا تھا کہ مزید لڑکیوں کو خود کش حملوں کے لیے تیار کروں، لیکن میں تمام خواتین سے کہوں گی کہ کسی غلط سرگرمی کا حصہ نہ بنیں۔

Screenshot 2026-03-03 130033

افغان طالبان کے 16 مقامات پر حملے پسپا کردیے گئے،جوابی کارروائی میں 27 افغان طالبان ہلاک،ایف سی بلوچستان کا ایک جوان شہید

۔ بلوچستان سرحد پر بھی افغان طالبان کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑرہا تھا،پاکستان نے ژوب سیکٹر میں 32 مربع کلومیٹر کا علاقہ بھی فتح کرلیا تھا۔ لڑنے اور حملوں کی طاقت ختم ہوئی تو بی ایل اے سے مدد لیکر گزشتہ رات افغان طالبان نے شمالی بلوچستان کے 16 مقامات پر حملے کیے۔

جن میں قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن کے اضلاع شامل ہیں۔ پاک فوج کی جانب سے تمام حملوں کو مؤثر انداز میں پسپا کیا گیا،افغان طالبان اور بی ایل اے کے 27 کارندے ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ اس دوران حملوں کو پسپا کرتے ہوئے ایف سی بلوچستان کا 1 جوان جام شہادت نوش کرگیا