16 July 2026

Balochistan Insight

HBXgeqZXAAAb7Ao

عسکری محاذ کے بعد پاکستان نے معاشی محاذ پر بھی بی ایل اے کی کمر توڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پاک ایران بارڈر کے استعمال سے بی ایل اے سمیت دیگر جتنے بھی مسلح گروہ غیر قانونی دھندہ کرکے مالی سپورٹ حاصل کرتے تھے وہ اب نہیں کرسکیں گے۔ کیوں کہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ 2 ماہ کے اندر ایران بارڈر پر بھی راہداری سسٹم کو ون ڈاکومنٹ رجیم پر منتقل کر دیا جائے گا اور آمد و رفت پاسپورٹ کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔

اب اسمگلنگ، پوست کی کاشت اور غیر قانونی تجارت کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ حکومت نے سرحدی علاقوں میں غیر قانونی نقل و حرکت اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ ایران بارڈر پر ون ڈاکومنٹ رجیم کے نفاذ کے بعد تمام آمد و رفت باقاعدہ دستاویزی نظام کے تحت ہوگی اور پاسپورٹ لازمی قرار دیا جائے گا۔

سرحدی علاقوں میں نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنایا جائے گا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ کسی بھی غیر

قانونی سرگرمی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کریں۔ اس سے قبل ایران سرحد پر بارٹر سسٹم اور مخصوص پاس سسٹم چلتا تھا،جس کا دہشتگرد گروہ غلط استعمال کرتے تھے۔ اب باقاعدہ راہداری سسٹم کو ون ڈاکومینٹ رجیم پر منتقل کرنے سے اسمگلرز کا دھندہ بند ہوجائے گا،یہ دھندہ بند ہونے سے بی ایل اے کی فنڈنگ کو دھچکا لگے گا۔

Screenshot 2026-02-19 131641

حکومت بلوچستان نے زراعت کے فروغ کے لئے گرین پاکستان انیشیٹو فیز ٹو کے تحت بلوچستان کے 847 کسانوں کو 3.2 ارب روپے کے بلاسود قرضے تقسیم کئے ہیں جس کے نتیجے میں 35609 ایکڑ رقبے پر کاشت کی جا سکے گی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مطابق،اس پراجیکٹ کے فیز 1 کے تحت 257 کسانوں کو 685 ملین کا بلا سود قرضہ پہلے فراہم کیا جا چکا ہے۔ حکومت بلوچستان ایک طرف کسان کارڈ کے زریعے سے بلوچستان کے غریب کسان کی مدد کر رہی ہے اور دوسری طرف گرین پاکستان انیشیٹیو کے زریعے سے بلاسود قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

Screenshot 2026-02-19 044023

سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں دو مختلف کارروائیاں،بی ایل اے کے مجموعی طور پر 14 کارندے ہلاک۔

بی ایل اے کے گرفتار کارندوں کی مخبری پر سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ کے علاقہ درخشاں اور بارکھان میں الگ الگ کارروائیاں کیں۔ درخشاں میں خفیہ اطلاع پر دہشتگردوں کی پناہ گاہ پر چھاپہ مارا گیا اور 8 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا۔ بارکھان میں دہشتگردی جنوری میں ناکام حملوں کے بعد فرار ہوکر چھپے ہوئے تھے،تلاش کرکے 6 دہشتگرد کو ہلاک کردیا گیا۔ اس دوران سی سی ڈی کے 3 اہلکار بھی زخمی ہوئے،دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ باردود برآمد ہوا۔ اس کے علاوہ جو سب سے اہم ثبوت ہاتھ لگے ہیں،وہ یہ ہیں کہ چھپے ہوئے دہشتگرد تاحال کسی حملے کی پلاننگ کررہے تھے،کیوں کہ ان کے پاس اسلحہ بارود موجود تھا۔ بشیر زیب سمیت بی ایل اے کی قیادت کیساتھ رابطے میں تھے،انکے انہی مواصلاتی رابطوں کو انٹرسیپٹ کیا گیا۔ اس دوران کچھ اہم پلاننگ بھی اداروں کے ہاتھ لگے ہیں،بتایا جارہا ہے کہ بشیر زیب کے کچھ ٹھکانوں کا بھی علم ہوا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بشیر زیب اب اپنے ٹھکانے بدلتا پھر رہا ہے کیوں کہ اس کی آئندہ چند ماہ کی پلاننگ اداروں کے ہاتھ لگ چکی ہے۔