01 March 2026

Balochistan Insight

کیاسچ،کیا جھوٹ

Screenshot 2026-02-26 141626

معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کی مد میں وفاق کو 119 ارب روپے ملتا ہے اور اتنی ہی رقم صوبے کو بھی ملتی ہے، جبکہ معدنیات پر کام کرنے والی کمپنیاں صوبائی حکومت کو علاقے کی فلاح و بہبود کی مد میں 12 ارب الگ سے رقم دیتی ہیں۔
جن سرداروں یا پھر قوم پرست بلوچ رہنماؤں کی زمینوں سے معدنیات نکلتی ہے وہ 23ارب روپے رائیلٹی کی مد میں الگ سے وصول کرتے ہیں،سوال ہونا چاہیے کہ اختر مینگل جیسے بلوچ سردار وہ رقم کہاں خرچ کرتے ہیں ؟
جس علاقے سے معدنیات نکل رہی ہوتی ہیں ، وہاں کے مقامی افراد کو تعلیم، علاج اور بجلی مفت ملتی ہے

HBtDdoNbgAAiXcP

ذرائع کے مطابق بی ایل اے نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر مسلح اہلکاروں کو اغواء کیا،مقصد حالیہ ناکام حملوں کی خفت مٹانا تھا۔

جس دن یہ واقعہ پیش آیا اُسی دن سے سیکیورٹی فورسز نے بازیابی کے لئے آپریشن لانچ کردیا تھا۔ چونکہ ایسے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن انتہائی حساس ہوتے ہیں اس لئے ان کی تفصیلات عوامی سطح پر نہیں لائی جاتی،البتہ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ضروری تفصیلات جاری کی جاتی ہیں۔

اس وقت سیکیورٹی فورسز اپنے جوانوں کو بازیاب کرانے کے لئے بڑے پیمانے پر آپریشن کررہی ہے۔

l_418607_081437_updates

پشین میں قائم سرانان اور سرخاب روڈ مہاجر کیمپوں میں مجموعی طور پر 57 ہزار سے زائد غیر قانونی افغانی مقیم تھے۔جنہیں مکمل طور پر بے دخل کرکے دونوں کیمپ خالی کرالیے گئے ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے آپریشن کے بعد 10 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان مہاجر باقی رہ گئے تھےجنہیں 2 فروری تک دوبارہ آپریشن کرکے واپس بھیج دیا گیا ہے۔

دونوں کیمپ مکمل طور پر خالی کراکر مسمار کردیے گئے ہیں،مساجد اور واٹر سپلائی کو مسمار نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان میں بی ایل اے کی دہشتگرد کارروائیوں میں غیر قانونی افغان بھی سہولت کاری کرتے پائے جاتے رہے ہیں۔