پاکستان اور ایران کی سرحد پر عارضی انتظامی بندش کا مقصد بارڈر مینجمنٹ کے لیے بہتر ایس او پیز کا نفاذ ہے، کیونکہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں کچھ اہم انکشافات سامنے آئے ہیں،سرحد پر مال بردار اور تجارتی ٹرکوں کی مؤثر اسکیننگ کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بی ایل اے نے دہشت گردی کی چند کارروائیوں میں 1500 سے 2000 کلوگرام تک دھماکا خیز مواد استعمال کیا، جو اسی سرحد سے تجارتی سامان اور مال بردار ٹرکوں کے ذریعے لایا گیا تھا۔
دوسری جانب نوشکی کی طرف پاک افغان سرحد پر سخت نگرانی اور حفاظتی اقدامات کے بعد دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت کا انحصار پاک ایران سرحدی گزرگاہوں پر بڑھ رہا ہے۔
اسی صورتحال کے پیش نظر پاکستان اور ایران باہمی رابطہ کاری سے سرحدی نگرانی اور سیکیورٹی کے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں۔
