عسکری محاذ کے بعد پاکستان نے معاشی محاذ پر بھی بی ایل اے کی کمر توڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پاک ایران بارڈر کے استعمال سے بی ایل اے سمیت دیگر جتنے بھی مسلح گروہ غیر قانونی دھندہ کرکے مالی سپورٹ حاصل کرتے تھے وہ اب نہیں کرسکیں گے۔ کیوں کہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ 2 ماہ کے اندر ایران بارڈر پر بھی راہداری سسٹم کو ون ڈاکومنٹ رجیم پر منتقل کر دیا جائے گا اور آمد و رفت پاسپورٹ کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔
اب اسمگلنگ، پوست کی کاشت اور غیر قانونی تجارت کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ حکومت نے سرحدی علاقوں میں غیر قانونی نقل و حرکت اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ ایران بارڈر پر ون ڈاکومنٹ رجیم کے نفاذ کے بعد تمام آمد و رفت باقاعدہ دستاویزی نظام کے تحت ہوگی اور پاسپورٹ لازمی قرار دیا جائے گا۔
سرحدی علاقوں میں نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنایا جائے گا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ کسی بھی غیر
قانونی سرگرمی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کریں۔ اس سے قبل ایران سرحد پر بارٹر سسٹم اور مخصوص پاس سسٹم چلتا تھا،جس کا دہشتگرد گروہ غلط استعمال کرتے تھے۔ اب باقاعدہ راہداری سسٹم کو ون ڈاکومینٹ رجیم پر منتقل کرنے سے اسمگلرز کا دھندہ بند ہوجائے گا،یہ دھندہ بند ہونے سے بی ایل اے کی فنڈنگ کو دھچکا لگے گا۔
