بلوچستان میں گزشتہ کچھ عرصے میں خواتین کا دہشتگرد حملوں کے لئے استعمال بڑھتا جارہا ہےکچھ ماہ قبل بی ایل اے نے ہیروف 2 نامی دہشتگرد حملوں میں بھی خواتین کا استعمال کیا ۔
اس کے علاوہ ایف سی ہیڈکوارٹر نوشکی پر خودکش حملے میں استعمال ہونے والی زرینہ رفیق کی بھی سہولت کاری میں ایک عورت استعمال ہوئی،جس کا نام رحیمہ بلوچ ہے اور گزشتہ دنوں گرفتار ہونے کے بعد رحیمہ نے خود ان تمام جرائم کا اعتراف کیا۔
مختلف طریقوں سے خواتین کو استعمال کیا جاتاہے،کہیں بلیک میل کرکے تو کہیں پیسوں کی لالچ دیکر۔
چونکہ خواتین کی سہولت کاری میں کسی کو شک بھی نہیں ہوتا اور بلوچ قبائلی روایات کے تحت خواتین کی تلاشی اور دیگر تحقیقاتی پہلوؤں میں بھی دشواری پیش آتی ہے۔ اسی لئے بی ایل اے خواتین کا استعمال کرتی ہے۔
اسی طرح ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تربت سے خدیجہ بلوچ کو حراست میں لیا گیا ہے۔خدیجہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز میں بی ایس نرسنگ کے ساتویں سمسٹر کی طالبہ ہے۔
کچھ گرفتار دہشتگردوں اور انٹیلی جینس اطلاعات کی بنیاد پر معلوم ہوا کہ خدیجہ دہشتگردوں کی معاونت اور سہولت کاری میں ملوث ہے ۔اس لئے تحقیقات اور تفتیش کی غرض سے خدیجہ کو حراست میں لیکر حراستی مرکز منتقل کیا گیا ہے۔
اس تمام واقعے کو خدیجہ کے اہل خانہ کے علم میں لایا گیا ہے،کسی قسم کی کوئی جبری گمشدگی یا مسنگ پرسن کا عنصر شامل نہیں کیا گیا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چونکہ مسنگ پرسن کے نام پر دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کرنے کا پرانا وطیرہ ہے،جس میں بی وائے سی اور دیگر عنصر دہشتگردوں کی معاونت کرتے ہیں اسی لئے پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے ۔
خدیجہ بلوچ سے اس حوالے سے بھی تحقیقات کی جارہی ہے کہ وہ یونیورسٹی میں معصوم طالبات کی بی ایل اے کے لئے ذہن سازی کاکام بھی کررہی تھی۔
