بی ایل اے نے آپریشن ہیروف ٹو کیوں لانچ کیا؟
بی ایل اے نے 2025 میں اپنی مسلسل شکست کو چھپانے کے لیے نئے سال کے آغاز پر نام نہاد دہشتگرد آپریشن “ہیروف ٹو” لانچ کیا۔ اس آپریشن پر بھاری سرمایہ کاری کی گئی، ایک سال تک تیاری کی گئی، غیر ملکی اسلحہ اکٹھا کیا گیا، جدید مواصلاتی آلات استعمال کیے گئے اور مکمل پلاننگ کے ساتھ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بلوچستان پر بی ایل اے کا کنٹرول ہے۔
آپریشن ہیروف ٹو کیسے ناکام ہوا؟
آپریشن جیسے ہی لانچ ہوا، چند گھنٹوں میں ہی ناکام ہوگیا۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے 344 سے زائد بی ایل اے کارندوں کو ہلاک کردیا جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ بھارتی سرمایہ کاری، جدید پلاننگ اور ایک سال کی تیاری کے باوجود بی ایل اے اپنا مقصد حاصل کرنے میں مکمل ناکام رہی۔
ناکامی کے بعد بی ایل اے نے نئی حکمت عملی کیا اپنائی؟
آپریشن کی ناکامی کے بعد بی ایل اے نے “ہِٹ اینڈ رن” پالیسی اپنالی۔ دہشتگرد چھپ کر آتے، عام بلوچ شہریوں کو ڈھال بناتے، انہی کا روپ دھارتے، معمولی حملے کرتے، ویڈیوز بناتے اور سوشل میڈیا پر ڈال کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے کہ بلوچستان پر اب بھی ان کا کنٹرول موجود ہے۔
بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کتنے مؤثر ہیں؟
حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بلوچستان بھر میں روزانہ 200 سے زائد خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ صرف گزشتہ دو دنوں میں 45 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ گزشتہ 6 ماہ میں سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں بی ایل اے سمیت دیگر دہشتگرد تنظیموں کے 600 سے زائد کارندے مارے ہیں۔
کن اہم دہشتگرد کمانڈرز کو ہلاک کیا گیا؟۔
ان میں ہائی ویلیو ٹارگٹ بھی شامل ہیں،جس میں ثاقب مری عرف شیدہ جسے 2 فروری کو ہلاک کیا گیا۔نعیم عرف ڈاکٹر کو 5 مارچ کو ہلاک کیا گیا تھا۔سہیل عرف لاشاری کو 25 اپریل کو مارا گیا،مہران لاشاری کو 25 اپریل کو ہلاک کیا اور سنگت عرف میجر نورا کو 2 مئی کو ہلاک کیا گیا۔ یہ وہ تمام بڑے نام ہیں جن کے ذریعے بی ایل اے مختلف علاقوں میں آپریٹ کرتی تھی،اس مقامی قیادت کی ہلاکت کے بعد بی ایل اے کا نیٹ ورک مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
بی ایل اے اب عام بلوچ عوام کو کیوں نشانہ بنا رہی ہے؟
اپنی مسلسل ناکامیوں کو چھپانے کے لیے بی ایل اے اب ایسے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے جہاں براہ راست بلوچ عوام متاثر ہورہے ہیں۔ مال بردار ٹرک جلائے جا رہے ہیں، بینک لوٹے جا رہے ہیں، مزدوروں کو اغواء کرکے تاوان مانگا جا رہا ہے اور عام بلوچ شہریوں پر حملے بڑھتے جا رہے ہیں۔
گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ساتھیوں سمیت اغواء کرنا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ درحقیقت بی ایل اے بلوچ عوام کے دلوں میں خوف بٹھانا چاہتی ہے تاکہ اپنی کمزور ہوتی طاقت کو برقرار دکھا سکے۔
اگر بی ایل اے مضبوط ہے تو سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ کیوں نہیں کرتی؟
اگر بی ایل اے واقعی مضبوط ہوتی تو سیکیورٹی فورسز کا براہ راست مقابلہ کرتی، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ نہتے بلوچ عوام کو آسان ہدف بنا کر ریاست کو کمزور ثابت کرنے کی ناکام کوشش کررہی ہے۔ یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشتگرد تنظیمیں میدان میں شکست کھا چکی ہیں۔
بلوچ عوام اور عمائدین کا ردعمل کیا ہے؟
بی ایل اے کی بوکھلاہٹ نے بلوچ عوام میں مزید غصہ پیدا کردیا ہے۔ بلوچ عمائدین کا کہنا ہے کہ بی ایل اے اور ان کے سہولت کاروں نے بلوچ عوام کے حقوق کے نام پر غیر ملکی ایجنڈا چلایا۔ جب ناکام ہوئے تو اب بلوچ عوام پر ہی ظلم شروع کردیا۔
بلوچ عمائدین کے مطابق یہ عناصر بلوچ عوام کے نمائندے نہیں بلکہ دہشتگرد اور کرائے کے ایجنٹ ہیں۔
