کوئٹہ: 30 ستمبر 2025 کو ایف سی نارتھ ہیڈکوارٹر پر خودکش اور مسلح حملے کے ماسٹر مائنڈ کمانڈر بصیر کو ایک خفیہ آپریشن میں ہلاک کردیا گیا، جبکہ اس کا ایک قریبی ساتھی گرفتار کرلیا گیا۔
30 ستمبر 2025 کو ایف سی نارتھ ہیڈکوارٹر پر گاڑی میں نصب خودکش بمبار کے ذریعے حملے کے بعد ایک مسلح کارروائی بھی کی گئی تھی، جسے سکیورٹی فورسز نے ناکام بناتے ہوئے حملہ آوروں کو ہلاک کردیا تھا۔ اس واقعے کے بعد منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے ایک خفیہ آپریشن شروع کیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق تقریباً پانچ ماہ تک جاری رہنے والی کارروائی میں مختلف انٹیلی جنس ذرائع، نگرانی اور مربوط آپریشنز کے ذریعے ٹی ٹی پی کمانڈر بصیر کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 22 فروری 2026 کو پشین میں 5 خودکش حملہ آوروں پر مشتمل ایک گروہ بھی کارروائی میں مارا گیا،جو بصیر گینگ کا حصہ تھا۔
14 اور 15 مئی کو شابان میں ہونے والے آپریشن کے بعد دہشتگرد کمانڈرز کی نقل و حرکت پر نظر رکھی گئی، جس کے دوران بصیر اور اس کے ایک ساتھی کو شابان کے علاقے سے ٹریک کیا گیا۔
20 مئی کو دو گھنٹے تک جاری فائرنگ کے تبادلے کے بعد سارانان کے علاقے ارجم کلی میں بصیر مارا گیا جبکہ اس کا ساتھی زندہ گرفتار کرلیا گیا۔
بصیر گلستان کا رہائشی اور نور اللہ نامی دہشتگرد کمانڈر کا بیٹا تھا،
