بلوچستان انسائیٹ کے ذرائع کے مطابق ، افغانستان میں موجود بی ایل اے ، ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے درمیان بلوچستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے تعاون بڑھا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس تعاون میں افرادی قوت، مالی وسائل، اسلحہ، تربیت اور لاجسٹک معاونت شامل ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے درمیان روابط 2025 کے دوران نمایاں ہونا شروع ہوئے، جبکہ افغان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس، جی ڈی آئی، نے مختلف تنظیموں کے درمیان رابطوں میں کردار ادا کیا،اور ان روابط میں بھارتی خفیہ ایجنسی راء کا بھی ہاتھ ہے۔
مئی 2026 میں قندھار کے گورنر ملا شیرین کی ایک ملاقات میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے بی ایل اے کی معاونت کا کہا گیا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ جولائی 2026 میں مزید تین ملاقاتیں ہوئیں، جن میں بلوچستان میں کارروائیوں کے لیے مالی اور عملی تعاون پر بات ہوئی۔
ذرائع کے مطابق ایک ملاقات میں بی ایل اے کی جانب سے جماعت الاحرار کو مبینہ طور پر 35 لاکھ افغانی فراہم کیے گئے۔ ایک دوسری ملاقات میں بھارتی خفیہ ادارے را کی جانب سے دہشت گرد کارروائیوں کے لیے 78 لاکھ ڈالر سے زائد کی مالی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
26 اگست 2026 کو قندھار میں ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک افراد شریک ہوئے۔ اجلاس میں بی ایل اے کو افرادی قوت، اسلحہ اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنے پر اتفاق ہوا۔
ذرائع کے مطابق ،یکم ستمبر کو افغان طالبان کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بی ایل اے کی معاونت سے متعلق خصوصی ہدایات جاری کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق سامنے آنے والی ایک دستاویز میں جنوب مغربی زون کے اسلحہ ڈپو سے رائفلیں، راکٹ پروپیلڈ گرینیڈ اور گولہ بارود فراہم کرنے کی ہدایات موجود ہیں۔
26 اگست کے اجلاس میں بلوچستان میں ہونے والی کارروائیوں کے لیے ایک مشترکہ میڈیا حکمت عملی پر بھی بات ہوئی، جبکہ ٹی ٹی پی اور القاعدہ کی جانب سے افرادی قوت فراہم کرنے اور بعض کارروائیوں کی ذمہ داری بی ایل اے کی جانب سے قبول کیے جانے کی حکمت عملی زیر بحث آئی۔یعنی کارروائی کوئی بھی کرے ذمہ داری بی ایل اے قبول کرے گی تاکہ میڈیا اور بیانیےکے محاذ پر بی ایل اے کو مضبوط دکھایا جائے۔
ذرائع نے 4 ستمبر 2026 کو زیارت میں ہونے والے حملے کے بارے میں بھی دعویٰ کیا کہ کارروائی ٹی ٹی پی کے عناصر نے کی، تاہم ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی۔
ذرائع کے مطابق ملا معراج الدین فراہی کو بی ایل اے کے لیے افرادی قوت، مالی وسائل، اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی میں رابطہ کاری کی ذمہ داری دی گئی، جبکہ نئے بھرتی کیے گئے بلوچ نوجوانوں کو القاعدہ کے تربیتی مرکز میں تربیت دینے کا منصوبہ بھی بنایا گیا۔
پاکستان ماضی میں متعدد مرتبہ یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور کابل سے ایسی سرگرمیوں کو روکنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
