کوئٹہ: بلوچستان کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو سابق وزیراعلیٰ اختر مینگل کے والد اور صوبے کے پہلے منتخب وزیراعلیٰ سردار عطااللہ مینگل کا دورِ اقتدار اپنی سخت گیر پالیسیوں اور دور رس انتظامی اثرات کے باعث انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی پہلی منتخب اسمبلی سے منظور شدہ 1973ء کے آئین پر جہاں نواب خیر بخش مری اور علی احمد تالپور کے علاوہ تمام فریقین نے دستخط کیے، وہاں سردار عطااللہ مینگل کا پہلے ہی دن سے یہ سخت مؤقف تھا کہ وفاق کے ماتحت پنجابی نوکر شاہی (بیوروکریسی) اور نیم فوجی دستوں کی موجودگی میں بلوچستان حقیقی سیاسی و معاشی خودمختاری حاصل نہیں کر سکتا۔
زمینی حقائق اور تاریخی دستاویزات بتاتی ہیں کہ سردار عطااللہ مینگل، گورنر غوث بخش بزنجو جیسے جہاندیدہ اور معتدل سیاست دان کے برعکس، حکومت کو ایک جمہوری طرز کے بجائے اپنے روایتی سرداری پس منظر کے تحت چلانے کے خواہاں تھے۔ اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے یک جنبشِ قلم سیکڑوں پنجابی بیوروکریٹس اور پولیس افسران کو صوبہ بدر (Repatriate) کرنے کا حکم دیا۔ اس اچانک فیصلے نے بلوچستان کو ایک ایسے سنگین تعلیمی اور انتظامی بحران میں دھکیل دیا، جس کا خمیازہ یہ صوبہ پانچ دہائیاں گزرنے کے بعد آج بھی بھگت رہا ہے۔
عام طور پر قوم پرست حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ اقدامات لسبیلہ کے مسلح تصادم کے بعد کیے گئے، جبکہ تاریخی تناظر میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوتا ہے۔ لسبیلہ کا واقعہ اس انتظامی اتھل پتھل کے کئی ماہ بعد، دسمبر 1972ء اور جنوری 1973ء میں پیش آیا تھا۔ مینگل وزارت نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بلوچستان ریزرو پولیس کے 60 فیصد غیر بلوچ افسران کو ہٹایا اور متوازی طور پر ‘بلوچستان دہی محافظ فورس’ قائم کی، جس میں وفاقی وائٹ پیپر کے مطابق 1,100 سے زائد افراد بھرتی کیے گئے۔
اس پالیسی کا سب سے بڑا نقصان تعلیمی شعبے کو پہنچا۔ روزنامہ ‘ایکسپریس ٹریبیون’ میں شائع ہونے والی بلوچستان کے ایک نامور استاد امیر محمد خان کی یادداشتوں کے مطابق، 1972ء میں پنجابی نژاد اساتذہ کی یکمشت واپسی (Repatriation) کے باعث صوبے میں اساتذہ کا ایسا قحط پڑا کہ نااہل یا جونیئر اسٹاف کو ہنگامی بنیادوں پر ہیڈماسٹر تعینات کرنا پڑا۔
یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کی ایک تحقیقی رپورٹ، جو نومبر 1972ء کے معاصر جریدے ‘آؤٹ لک’ (Outlook) کے ڈیٹا پر مبنی ہے، انکشاف کرتی ہے کہ مینگل انتظامیہ نے مجموعی طور پر تقریباً 5,500 سرکاری ملازمین کو واپس بھیجا، جن میں اکثریت پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔ ان میں سے 2,880 (تقریباً 52 فیصد) صرف پولیس اہلکار تھے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب خود مینگل حکومت کے اعتراف کے مطابق صوبے کے 12,000 سرکاری ملازمین میں سے صرف 25 فیصد (3,000) بلوچ تھے۔ اس بڑے پیمانے پر بیدخلی کی تصدیق خود گورنر غوث بخش بزنجو کے ستمبر 1972ء کے اس سرکاری بیان سے بھی ہوتی ہے، جس کا ذکر راؤٹلیج (Routledge) سے شائع ہونے والی محقق فرحان حنیف صدیقی کی کتاب میں موجود ہے کہ مالی سال کے اختتام تک 5,500 سے زائد ملازمین کو ان کے آبائی صوبوں میں واپس بھیجا جائے گا۔
اس پورے دور کے حوالے سے ہمارے قوم پرست دوستوں کا یہ دعویٰ کہ “اس عرصے میں بلوچستان میں ایک بھی جرم ریکارڈ نہیں ہوا”، دستاویزی طور پر سب سے کمزور اور حقیقت سے دور دکھائی دیتا ہے۔ کسی بھی سرکاری کرائم رپورٹ یا پولیس کے سالانہ ریکارڈ میں اس دور میں “صفر جرائم” کا کوئی وجود نہیں ملتا۔ اس کے برعکس، 5 دسمبر 1972ء کے روزنامہ ‘ڈان’ (Dawn) کا اداریہ اس پروپیگنڈے کی نفی کرتا ہے، جس میں پٹ فیڈر (Pat Feeder) کے دیہاتوں پر مسلح چھاپوں، مال مویشی لوٹنے، زمینوں پر قبضے اور کوئٹہ میں مسلح بگٹی قبائلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی امن و امان کی سنگین صورتحال کا واضح ریکارڈ موجود ہے۔
بلوچستان انسائیٹ کی یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ ماضی میں سیاسی و قبائلی بنیادوں پر کیے گئے جذباتی فیصلوں نے بلوچستان کے انتظامی اور تعلیمی ڈھانچے کو وہ نقصان پہنچایا جس کی تلافی آج تک ممکن نہیں ہو سکی۔
