نوشکی کے علاقے کلی جمال آباد میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور شہید اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلوچستان میں بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے انسداد پولیو مہم جاری ہے۔
بلوچستان پہلے ہی پولیو کے خلاف جنگ میں سنگین چیلنجز کا سامنا کرچکا ہے۔ پولیو ٹیموں اور ان کی سکیورٹی پر حملوں کے باعث دور دراز علاقوں میں ویکسینیشن مہم چلانا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔ پاکستان انسداد پولیو پروگرام بھی ماضی میں ایسے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کرچکا ہے کہ مہم کا مقصد بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنا ہے۔
مقامی عمائدین کی جانب سے اس نوعیت کے حملوں پر سخت ردعمل سامنے آنا اس بنیادی سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ جو عناصر بلوچ بچوں تک صحت کی بنیادی سہولت پہنچانے والے عملے اور ان کے محافظوں کو نشانہ بنائیں، کیا انہیں بلوچ عوام کا ہمدرد کہا جاسکتا ہے؟عمائدین نے ایسے عناصر کو بلوچ شناخت کا دشمن قرار دیا ہے
