بلوچستان حکومت نے قلات کے بعض علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف ممکنہ آپریشن کے باعث علاقہ مکینوں کو 28 ستمبر تک انخلاء کا نوٹس جاری کیا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر قلات کے آفس سے جاری ہونے والے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر پارود، شور اور گزگ کے علاقوں میں مقیم افراد 28 ستمبر 2026 تک عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
اسسٹنٹ کمشنر قلات اور خالق آباد کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عوام الناس کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر مذکورہ علاقوں کے مکین مقررہ تاریخ تک انخلا مکمل کریں۔
نوٹس میں تمام متعلقہ افراد سے ضلعی انتظامیہ کے احکامات پر عملدرآمد کرنے اور اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کی اپیل کی گئی ہے۔ متعلقہ انتظامی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی نوٹس سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔نقل مکانی کرنے والے افراد کے لئے حکومت کی جانب سے عارضی متبادل رہن سہن کا بندوبست کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جہاں ممکنہ آپریشن کیا جاسکتا ہے وہ علاقے پہاڑی سلسلے کے ساتھ ساتھ متصل ہیں اور ان علاقوں سے متعلق رپورٹ ہے کہ مسلح حملہ آور ان علاقوں میں موجود آبادی میں رہ کر سکیورٹی فورسز، پبلک ٹرانسپورٹ اور بلوچ املاک پر حملے کرتے رہتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اسمبلی میں یہ بات کرچکے ہیں کہ
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اسمبلی اجلاس کے دوران کہا تھا کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر سکیورٹی فورسز، پبلک اور تجارتی ٹرانسپورٹ پر مسلسل حملوں کے بعد حکومت بلوچستان نے حملہ آوروں کے خلاف بھرپور آپریشن کا فیصلہ کیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ شور، پارود اور کچھ دیگر ایسے علاقے ہیں جہاں 1970 سے علیحدگی پسند موجود ہیں۔
